BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 August, 2006, 20:35 GMT 01:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: بارشوں سے ہنگامی صورتحال

فاائل فوٹو
طوفانی بارشوں سے شہر بری طرح متاثر ہوا ہے
کراچی میں جمرات کے روز ہونے والی تیز بارش کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔

یہ ہلاکتیں شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کے تار گرنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ آئی آئی چندریگر روڈ، شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ، سائٹ، طارق روڈ ڈیفنس اور شہر کے کئی دوسرے علاقوں سے ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ۔

خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے ۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ایدھی ایمبولینس سروس کی ایمبولینسیں کئی جگہوں تک لاشیں اٹھانے کے لیئے نہیں پہنچ سکیں ہیں۔

 ڈیفنس کے علاقے خیابان ہلال میں ایک باپ بیٹا پانی میں پھنسی اپنی گاڑی کو دھکا لگا رہے تھے کہ ان پر بجلی کے تار گر پڑے جس کے نتیجے میں دونوں ہلاک ہوگئے۔ سول ہسپتال میں اب تک چار لاشیں لائی گئی ہیں ۔

ڈیفنس کے علاقے خیابان ہلال میں ایک باپ بیٹا پانی میں پھنسی اپنی گاڑی کو دھکا لگا رہے تھے کہ ان پر بجلی کے تار گر پڑے جس کے نتیجے میں دونوں ہلاک ہوگئے۔ سول ہسپتال میں اب تک چار لاشیں لائی گئی ہیں اور جناح ہسپتال میں تین۔

شہر بھر میں زیادہ تر علاقوں میں سڑکوں پر ٹریفک بری طرح پھنسا ہوا ہے۔

 شہر بھر میں زیادہ تر علاقوں میں سڑکوں پر ٹریفک بری طرح پھنسا ہوا ہے۔

شارع فیصل پر جو کراچی کی سب سے اہم اور مصروف سڑک ہے ٹریفک کئی گھنٹوں سے جام ہے۔ اس کے علاوہ آئی آئی چندریگر روڈ، راشد منہاس روڈ، ایم اے جناح روڈ اور شہر کی تقریباً تمام سڑکوں پر لوگ کئی گھنٹوں سے ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ملیر ندی میں تغیانی کی کیفیت ہے اور ندی کے پانی سے کورنگی روڈ مکمل طور پر ڈوب گئی ہے جس کی وجہ سے کورنگی کی طرف جانے والا راستہ بھی بند ہے۔

بیشتر افراد رات دیر تک اپنے دفاتر سے گھروں تک نہیں پہنچ سکے تھے۔

 بیشتر افراد رات دیر تک اپنے دفاتر سے گھروں تک نہیں پہنچ سکے تھے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مجموعی طور پر شہر میں 80 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہے اور حکومت سندھ کی جانب سے جمعہ کے روز سکولوں میں تعطیل کا علان کیا گیا ہے۔ ٹریفک جام کے دوران لوگوں سے ان کے موبائیل فون چھینے جانے کی اطلاعات بھی ملیں ہیں ۔
 بارشوں کے دوران شہری حکومت کی جانب سے پانی کی نکاسی کے لیئے کی جانے والی کوششیں تو کسی حد تک نظر آئی ہیں لیکن کینٹونمنٹ بورڈ اور ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹیکی انتظامیہ مکمل طور پر خاموش ہے۔

شہر میں کئی ہفتوں سے وقفہ وفقہ پر بارشیں ہو رہیں تھی۔ اس دوران وہ علاقے جو کینٹونمنٹ بورڈ اور ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے زیر انتظام ہیں زیادہ خراب صورتحال کا شکار رہے ہیں۔

بارشوں کے دوران شہری حکومت کی جانب سے پانی کی نکاسی کے لیئے کی جانے والی کوششیں تو کسی حد تک نظر آئی ہیں لیکن کینٹونمنٹ بورڈ اور ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹیکی انتظامیہ مکمل طور پر خاموش ہے۔

بارش سے صف ماتم
لاہور کی جان لیوا بارشیں
اسی بارے میں
لاہور میں بارش، چھ ہلاک
25 July, 2006 | پاکستان
بارشیں رحمت یا زحمت!
28 July, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد