120 افراد ہلاک 37 ارب کا نقصان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں مون سون کی بارشوں میں ایک سو بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ زرعی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے صوبے کو سینتیس ارب روپے کا زرعی نقصان ہوا ہے، جس کی تلافی کے لیئے زرعی قرضے اور وصولیاں معاف کی جانی چاہیئں۔ مون سون کی حالیہ بارشوں سے کراچی، حیدرآباد، سانگھڑ، بدین، عمرکوٹ، میرپورخاص شدید متاثر ہوئے ہیں۔ صوبائی ریلیف کمشنر انوار حیدر نے بتایا ہے کہ صوبے میں بارشوں میں ایک سو بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، یہ افراد کرنٹ لگنے، آسمانی بجلی گرنے اور ڈوب جانے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں بیالیس افراد کراچی میں اور باقی ستر افراد دیگر اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں ۔
انہوں نے بتایا کہ جو لوگ گیسٹرو کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں ان کو اس سروے میں شامل نہیں کیا جارہا ہے۔ حکومت کی جانب سے بارشوں میں ہلاک ہونے والےگھر کی کفیل کے لیئے ایک لاکھ اور دیگر کے لیئے پچاس ہزار روپے معاوضے فراہم کیا جائیگا مگر اس میں گیسٹرو میں ہلاک ہونے والے شامل نہیں ہونگے۔ شدید بارشوں کے بعد علاقوں میں پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں، جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد مبتلا ہوگئی ہے۔ سندھ کے صوبائی وزیر صحت شبیر قائمخانی نے بتایا کہ بارشوں کے بعد گیسٹرو، ملیریا اور دیگر بیماریوں میں مبتلا اکسٹھ ہزار لوگ سرکاری ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے محکمے کے ریکارڈ کے مطابق گیسٹرو سے سات افراد کے ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ اخباری اطلاعات کے مطابق حیدرآباد، کوٹڑی، دادو میں یہ تعداد زیادہ ہے۔ زراعت پر دارومدار رکھنے والے صوبے سندھ کی معشیت پر بارشوں کے شدید منفی اثرات ہوئے۔ صوبائی محکمہ زراعت کے مطابق صوبے کے بارہ اضلاع میں مرچ، پیاز، ٹماٹر سبزیوں، چاول اور گنے کی فصل کو پچاس سے نوے فیصد تک نقصان پہنچا ہے۔ ان میں میرپورخاص اور سانگھڑ اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں ساڑھے پانچ سو ہیکٹر اراضی پر کاشت کی گئی تھی بارشوں کے باعث پونے دو لاکھ ہیکٹر پر فصلیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔ کاشتکاروں کی نمائندہ جماعت سندھ آبادگار بورڈ کا کہنا ہے کہ صوبے میں فصلوں کو سینتیس ارب رپوں کا نقصان پہنچا ہے۔
تنظیم کی جانب سے کیئے گئے سروے کی رپورٹ کے مطابق بارش کے باعث کیش کراپ کپاس چالیس فیصد،گنا بائیس فیصد، ٹماٹر انسٹھ فیصد،جبکہ مرچ نوے فیصد متاثر ہوئی ہے۔ بارہ اضلاع میں سے سانگھڑ، میرپورخاص، عمرکوٹ، بدین میں فصلوں کو نوے فیصد تک نقصان پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ ان اضلاع میں زیادہ تر کپاس، گنے اور مرچ کی کاشت کی جاتی ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ کے رہنما عبدالمجید نظامانی کا مطالبہ ہے کہ شدید نقصان کے بعد کاشتکار پریشان ہیں اس سے چھٹکارے کے لیئے زرعی ٹیکس معاف کیا جائے اور نئی کاشت کے لیئے بلا سود قرضے فراہم کیئے جائیں۔ جب وزیراعظم شوکت عزیز نے بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا تو سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وفاقی حکومت صوبے کو دس ارب رپے فراہم کرے، زرعی قرضے معاف کیئے جائیں اور بغیر سود کے قرضے فراہم کیئے جائیں۔ اس مطالبے کے جواب میں وزیر اعظم شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ بارشوں کے متاثر علاقوں میں ہونے والے کاموں کی آدھی رقم وفاقی حکومت فراہم کریگی، جبکہ قرضے معاف کرنے یا ملتوی کرنے کے بارے میں بعد میں فیصلہ کیا جائیگا۔ این جی اوز کا کہنا کہ سندھ میں حالیہ بارشوں سے اتنا ہی نقصان ہوا ہے جتنا کہ کشمیر میں زلزلے سے ہوا تھا مگر حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے، جبکہ وزیر اعلیُ کا کہنا ہے کہ سندھ کے نقصان کا زلزلے کی تباہی سے مقابلہ کرنا غلط ہے۔ |
اسی بارے میں سندھ: جان لیوا بارشیں، 30 ہلاک01 August, 2006 | پاکستان پاکستان: بارش سے کئی ہلاک24 July, 2006 | پاکستان پنجاب میں بارشوں سے پچیس ہلاک 14 July, 2006 | پاکستان شدید بارش سے کارروائیاں متاثر10 November, 2005 | پاکستان تیز بارش، امدادی کارروائیاں متاثر08 October, 2005 | پاکستان کراچی: بارش سے طغیانی کا خطرہ10 September, 2005 | پاکستان اندرون سندھ بارشیں، 12 ہلاک09 September, 2006 | پاکستان سندھ بارش: بچوں سمیت سولہ ہلاک31 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||