BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 June, 2006, 07:24 GMT 12:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دیہاتوں سے لوگوں کی منتقلی جاری

دیہاتوں سے لوگوں کا محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل
دیہاتوں سے لوگوں کا محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل منگل ستائیس جون سے جاری
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تودوں کے خطرے کے زد میں دیہاتوں سے لوگوں کا محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل منگل ستائیس جون سے جاری ہے اور اسی دوران ابتدائی اندازوں پر نظر ثانی کے بعد اب حکام کا کہنا ہے کہ ضلع مظفرآباد میں بارشوں کی وجہ سے اکتالیس دیہات تودوں کی زد میں ہیں ۔

پہلے حکام نے کہا تھا کہ تئیس گاؤں تودوں کی زد میں ہیں ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے قائم کیمپ مینجمنٹ آرگنائزیشن کے اسسٹنٹ کمشنر راجہ عباس نے بی بی سی کو بتایا کہ بتیس( 32) دیہاتوں کو جزوی طور پر خالی کرا کے ان لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

بارش اور تودے گرنے کی وجہ سے صورتحال خطرناک ہے

لیکن دیگر نو دیہاتوں کے وہ لوگ جو خطرے میں تھے وہ پہلے سے ہی خمیہ بستی میں ہیں اور یہ لوگ آٹھ اکتوبر کے زلزے کے بعد ہی خیمہ بستیوں میں منتقل ہوگئے تھے۔ اس لیئے ان نو دیہاتوں سے کسی کو بھی منتقل نہیں کیا جانا ہے۔

راجہ عباس کا کہنا ہے کہ بتیس دیہاتوں میں بسنے والوں میں سے آٹھ ہزار چھ سو پینتیس افراد پر مشتمل چودہ سو بیاسی خاندانوں کو محفوظ مقامات کا منتقل کیا جارہا ہے ۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان دیہاتوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل یکم جولائی تک مکمل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں سے گاؤں خالی کرائے جارہے ہیں ان کو پہلے سے موجود قریبی خیمہ بستیوں میں منتقل کیا جارہا ہے اور وہاں ان کے لیئے نئے خیمے نصب کیے جارہے ہیں یا لوگوں کی سہولت کے مطابق ان کو اپنے دیہاتوں کے قریب محفوظ جگہ پر منتقل کیا جارہا ہے ۔

ان کا کہنا کہ وہ گاؤں کے ان حصوں سے لوگوں کو منتقل کر رہے ہیں جو زیادہ خطرے میں ہیں اور نسبتاً محفوظ علاقوں سے لوگوں کو منتقل نہیں کیا جارہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان دیہاتوں میں زلزے کی صورت حال ایسی ہوگئی ہے کہ بارش کی وجہ سے وہاں تودے گرنے کا شدید خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دیہاتوں کی حال ہی میں جیو لوجیکل سروے آف پاکستان نے نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ دیہات مٹی کی تودوں کے زد میں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان میں بعض ایسے ہیں جہاں جزوی پر طور پر تودے گرنے کا خطرہ ہے اور کچھ کا زیادہ تر حصہ تودوں کی زد میں آسکتاہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں سے گاؤں خالی کرائے جارہے ہیں ان کو پہلے سے موجود قریبی خیمہ بستیوں میں منتقل کیا جارہا ہے اور وہاں ان کے لیئے نئے خیمے نصب کیے جارہے ہیں یا لوگوں کی سہولت کے مطابق ان کو اپنے دیہاتوں کے قریب محفوظ جگہ پر منتقل کیا جارہا ہے ۔

حکام کا کہنا کہ مون سون ختم ہونے کے بعد خالی کرائے جانے والے علاقوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور اگر یہ علاقے محفوظ قرار دیے گئے تو اس صورت میں لوگوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی ۔

بصورت دیگر ان لوگوں کو اگلے سال مارچ تک ان عارضی خمیوں بستیوں میں ہی رہنا پڑے گا ۔

اس دوران حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ان متاثرین کی آباد کاری کے لیئے متبادل بندوبست کرے گی ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد