کشمیر مون سون، گھر گرنے کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے یکم جولائی تک پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے زلزلہ زدہ شہر مظفر آباد کے گرد و نواح میں واقع تیس دیہاتوں کے گیارہ ہزار مکینوں کو محفوظ علاقے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے معلوماتی نیٹ ورک IRIN نے بتایا ہے کہ یکم جولائی سے مون سون یا ساون کی بارشیں شروع ہونے کا امکان ہے اور اس دوران مذکورہ دیہات میں تودے گرنے کا خدشہ ہے۔ اس ادارے نے مظفرآباد میں قائم ’کیمپ مینیجمینٹ آرگنائزیشن‘ کے کمشنر راجہ عباس کے حوالے سے کہا ہے کہ انہوں نے تاحال ایک ہزار سے زائد خاندانوں کی منتقلی کے انتظامات شروع کردیئے ہیں جو کہ ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہیں۔
راجہ عباس کا کہنا ہے کہ بائیس دیہاتوں میں رہنے والے زلزلہ زدگاں کو اب برساتوں میں مٹی کے تودے گرنے سے خطرہ لاحق ہے اور حکومت انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہے۔ اُن کے مطابق اِن دیہاتوں کی حال ہی میں ’جیولوجیکل سروے آف پاکستان‘ نے نشاندہی کی تھی اور قرار دیا تھا کہ یہ ’لینڈ سلائیڈنگ‘ یعنی مٹی کے تودوں کی زد میں ہیں۔ پناہ گزینوں کے متعلق اقوام متحدہ کے مقامی فیلڈ افسر دولت خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر متعلقہ دیہات میں رہنے والوں کو باخبر کرنے کے لیے پمفلٹ بھی تقسیم کیئے ہیں۔
مظفر آباد کے نزد سمہ بانڈی نامی گاؤں کے ایک چھپن سالہ رہائشی محمد سفیر کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی انہیں زلزلے سے تباہی کا معاوضہ بھی نہیں دیا اور دوبارہ انہیں اپنے علاقے چھوڑنے کا کہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے حکومت ان کی چھت، کھانے پینے اور دیگر سہولیات کا انتظام کرے تو پھر ہی وہ محفوظ مقام پر جائیں گے۔ | اسی بارے میں مظفر آباد، دس خیمے نذر آتش11 March, 2006 | پاکستان کشمیر: بورڈ کی غلط کتابوں کامسئلہ12 May, 2006 | پاکستان ’جیش نے کہا، پولیس نے مار دیا‘23 May, 2006 | پاکستان کشمیری بچے کی شہریت کا مسئلہ 29 May, 2006 | پاکستان زلزلہ: بچھڑنے والے افراد کی تلاش08 June, 2006 | پاکستان مظفر آباد: لاشوں کی تعداد 18 ہو گئی14 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||