مظفر آباد، دس خیمے نذر آتش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک خیمہ بستی میں آگ لگنے کی وجہ سے دس خیمے جل کر راکھ ہوگئے تاہم اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مکینوں کے مطابق یہ آگ بجلی کی شارٹ سرکٹنگ کی وجہ سے لگی ہے۔ مظفرآباد میں جس خیمہ بستی میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا وہ دریائے نیلم کے کنارے پر واقع ہے۔ یہ بستی کوئی 80 خیموں پر مشتمل ہے اور ان میں پانچ سو سے زائد افراد رہتے ہیں۔ اس خیمہ بستی کو کشمیر کے اس علاقے کی جماعت اسلامی کا رفاہی ادارہ چلارہا ہے۔ مظفرآباد میں اس وقت لگ بھگ ستر خیمہ بستیاں ہیں جہاں تقریباً سڑسٹھ ہزار لوگ آباد ہیں۔ الخدمت کے زیر اہتمام چلنے والی اس خیمہ بستی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اس بستی کے ایک خیمے نے آگ پکڑ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے دس خیمے اس کی لپیٹ میں آگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خیمہ بستی کے مکینوں اور الخدمت کے لوگوں نے مل کر آگ پر قابو پالیا۔ اس خیمہ بستی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ آگ بجلی کی شارٹ سرکٹنگ کی وجہ سے لگی۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ ان خیموں میں لوگوں کی تمام اشیا جل کر راکھ ہوگئیں۔ زلزے کے بعد خمیوں میں آگ لگنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں اور کچھ واقعات میں ہلاکتیں بھی ہوئیں اور اب تک ان واقعات میں کوئی دو درجن افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں بہت سارے لوگ خیمہ بستیوں میں رہتے ہیں۔ ان خیمہ بستیوں میں حفاظت کا معقول انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے یہاں آگ لگنے کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ | اسی بارے میں زلزلہ، کشمیر میں ایک شخص ہلاک10 March, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کی گھر واپسی شروع11 March, 2006 | پاکستان پاکستان میں زلزلے کے جھٹکے10 March, 2006 | پاکستان ’امدادی کیمپ بند نہیں کیئے جا رہے‘10 March, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کی واپسی شروع 09 March, 2006 | پاکستان ستائیس سو حاملہ عورتوں کو خطرہ08 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||