BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 May, 2006, 01:33 GMT 06:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: بورڈ کی غلط کتابوں کامسئلہ

کتابیں
65 ہزار کے قریب ان کتابیں کو ابھی تک ہٹانے کا انتظام کنہیں کیا گیا ہے
اقوام متحدہ کے بچوں کے بہبود کے ادارے یونیسف کی طرف سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں کے پرائمری اسکولوں کے بچوں کے لیئے بطور امداد مہیہ کی جانے والی 65 ہزار سے زائد کتابیں اس علاسے کے طلبہ اور طالبات کے لیئے بیکار ہیں۔

مظفر آباد میں محکمہ تعلیم کے حکام نے بتایا ہے کہ یہ کتابیں ان کی نصابی ضروریات پورا نہیں کرتی ہیں کیونکہ یہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی شائع کردہ ہیں ۔

پاکستان کے مختلف صوبوں میں الگ الگ ٹیکسٹ بورڈ قائم ہیں جو سکولوں کے لیئے نصاب تعلیم وضع کرتے ہیں اور درسی کتابیں شائع کرتے ہیں ۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں الگ سے تو کوئی ٹیکسٹ بک بورڈ قائم نہیں ہے البتہ کشمیر کے اس علاقے میں نظامت اعلیٰ تحقیق و ترقی نصاب یہی کام کرتا ہے اور پرائمیری اور مڈل اسکولوں کے لیئے نصاب وضع کرتا ہے۔

ہزاروں غلط کتابوں کی امداد میں فراہمی حکام اور امدادی اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کی ایک اور واضع مثال ہے ۔

آٹھ اکوبر کے زلزے کے بعد یونیسیف نے کشمیر کے اس علاقے میں پرائمری سکولوں کے بچوں کے لیئے مفت کتابیں فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی ہوا لیکن یہ کتابیں اس لیئے استعمال نہیں کی جا رہیں کہ یہ علاقے کی نصابی ضروریات پورا نہیں کرتیں۔

کشمیر کے اس علاقے کے محکمہ تعلیم کے اسسٹنٹ ڈائریکڑ ایلیمنڑی سکولز سجاد گیلانی کا کہنا ہے کہ یونیسیف کی طرف سے کوئی تین ماہ قبل پرائمری سکولوں کے بچوں کے لیئے خریدی گئی پنچاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں کی تعداد سڑسٹھ ہزار سے زیادہ ہے اور یہ کوئی ساڑھے تیرہ ہزار بچوں کے لیئے تھیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں یونیسیف نے کچھ کتابیں تقسیم کیں لیکن بعد میں یہ سلسلہ اس لیئے روک دیا گیا کیونکہ یہ کتابیں اس علاقے میں پڑھائی نہیں جاسکتی ہیں ۔

 اسسٹنٹ ڈائریکڑ ایلیمنڑی سکولز سجادگیلانی کا کہنا ہے کہ یہ کتابیں ان کے لیئے بیکار ہیں لیکن اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں موجود ان کتابوں کو ہٹانے کا کوئی انتظام نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسف نے یہ کتابیں بوائز ہائی سکول گوجرہ کے علاوہ گرلز ہائی سکول میانی بانڈی میں یہ رکھی ہوئی ہیں۔

گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ کتابیں ان کے لیئے بیکار ہیں لیکن اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں موجود ان کتابوں کو ہٹانے کا کوئی انتظام نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسف نے یہ کتابیں بوائز ہائی سکول گوجرہ کے علاوہ گرلز ہائی سکول میانی بانڈی میں یہ رکھی ہوئی ہیں۔

گوجرہ بوائز ہائی سکول میں ہیڈ ماسڑ خواجہ سرفراز نے گتے کی ایک بند پیٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس میں پرائمری جماعتوں میں پڑھنے والے بچوں کی کتابیں ہیں جو یونیسیف نے ہمارے سکول کو فراہم کی ہے اور یہ کہ ہم نے اس کو کھولنے کی زحمت بھی نہیں کی کیونکہ ہمیں معلوم ہوگیا تھا کہ یہ کتابیں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی ہیں اور یہ ہمارے ہاں رائج نصاب سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں اور ہمارے بچوں کے کام کی نہیں ہیں۔‘

ایک کارٹن کو کھولا تو اس میں پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی پرائمری کی مختلف جماعتوں کی کتابوں کے تیس سیٹ تھے اور ان کتابوں کی تعداد ڈیڑھ سو تھی۔ یہ غالباً تیس بچوں کے لیئے الگ الگ سیٹ بنائے گئے تھے لیکن اب یہ اس سکول میں ردی کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ مسڑ سرفراز نے بتایا کہ یہ کتابیں بہت جگہ گھیر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’یونیسیف ہمارے سکول کا ایک کمرہ بطور سٹور استعمال کرتا ہے جہاں انہوں نے یہ کتابیں رکھی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’ ہم نے بارہا کہا کہ یہ کمرہ خالی کیا جائے کیونکہ ہمارے سکول کے بچوں کے لیئے بیٹھنے کے لئے جگہ کم ہے لیکن ابھی تک یہ کمرہ خالی نہیں کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یونیسیف کے حکام تمام صورتحال سے آگاہ ہیں لیکن اس کے باوجود یہ کتابیں کوئی تین ماہ سے یہاں کیوں پڑی ہیں؟‘

اسسٹنٹ ڈائریکڑ سجاد گیلانی کے مطابق گوجرہ میں واقع ہائی سکول میں ایسی کتابوں کےدو سو پچاس کاٹن رکھے گئے ہیں جبکہ میانی بانڈی میں ایک سو پچاس کتابوں کے کارٹن رکھے گئے ہیں۔

گوجرہ ہائی سکول میں پرائمری شعبے کے انچارج زاہد گیلانی نے دونوں نصاب کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پنچاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا کوئی بھی مضمون خواہ وہ اردو ہو حساب ہو سائینس ہو یا اور کوئی مضمون ہو وہ اس علاقے کے نصاب سے یکسر مخلتف ہے۔

مظفرآباد میں یونیسیف میں تعلیم کے شعبے کے ایک افسر ذوالفقار علی سے جب یہ جاننے کے لیئے رابطہ کیا گیا کہ آخر یونیسیف نے ایسی کتابیں کیوں خریدی جو کشمیر کے اس علاقے میں پڑھائی نہیں جاسکتی ہیں اور یہ غلطی کیوں سرزد ہوئی تو انہوں نے اس پر کسی طرح کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ۔

حکام کا کہنا ہے کہ یونیسیف اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے لیئے تیار ہے ۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکڑ سکینڈری سکولز کا کہنا ہے کہ یونیسیف اب زلزے سے متاثرہ علاقوں میں پرائمری اور مڈل سکولوں کے بچوں کو اس علاقے میں رائج نصاب کے مطابق مفت کتب فراہم کریں گے۔

یونیسف کا اس علاقے کے محکمہ تعلیم کے مشورے کے بغیر کتابیں خرید لینا حکام اور امدادی اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کی ایک اور مثال ہے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد