BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 May, 2006, 23:11 GMT 04:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جیش نے کہا، پولیس نے مار دیا‘

ٹیپو اور نوید کی لاشیں جب پوسٹ مارٹم کے لیئے رحیم یار خان کے ہسپتال لائی گئیں تو مشتعل ہجوم نے پولیس پر حملہ کر دیا
پنجاب کے جنوبی ضلع رحیم یار خان میں چند روز قبل پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دو افراد میں سے ایک کے ورثاء نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے یہ کارروائی کالعدم شدت پسند تنظیم ’جیش محمد‘ کی ایماء پر کی۔

گزشتہ جمعرات اٹھارہ مئی کو رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے مبینہ تبادلے میں رانا شہزاد عرف ٹیپو اور اس کے ساتھی نوید انجم ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ان کے دو اور ساتھیوں رانا آصف اور صابر کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے جیش کے ایک رکن حسن برکی نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے کا ان کی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعترات کیا کہا کہ ہلاک ہونے والے کا بڑا بھائی ان کے ساتھ تھا۔

پولیس کا دعویٰ تھا کہ رانا شہزاد اور ان کے ساتھی ایک کار پر سوار اقبال آباد سےصادق آباد آرہے تھے کہ ایک پلازہ پر انہیں رکنے کا اشارہ کیا گیا لیکن ایسا کرنے کی بجائے انہوں نے کار دوڑا دی۔ پولیس نے تعاقب شروع کیا تو کار میں سوار افراد نے فائرنگ شروع کردی۔ جوابی فائرنگ سے دو ملزم ہلاک ہوگئے جبکہ باقی دو کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔

جبکہ دوسری طرف گرفتار ’ملزموں‘ کا کہنا ہے کہ ٹول پلازہ پر پولیس کے کہنے پر گاڑی روکی گئی تو ایک سپاہی کار میں آ کر بیٹھ گیا جب کہ سرکاری گاڑی میں باقی نفری کے ساتھ موجود صادق آباد کے اے ایس پی پیر محمد شاہ نے قریبی احمد پور لمہ پولیس سٹیشن کی طرف چلنے کو کہا۔

تاہم راستے میں پڑنے والے اینٹوں کے بھٹوں کے قریب گاڑیاں روک کر اے ایس پی پیر محمد شاہ اور دوسرے پولیس والوں نے ٹیپو اور نوید کو فائرنگ کر کے ’قتل‘ کر دیا۔

گرفتار شدگان کا الزام ہے کہ نوید کو اینٹوں کے بھٹوں کے قریب گاڑی روکنے کے بعد گولیاں مار کر ’قتل‘ کیا گیا

ٹیپو اور نوید کی لاشیں جب پوسٹ مارٹم کے لیئے رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال لائی گئیں تو مشتعل ہجوم نے پولیس پر حملہ کیا اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔ سنیچر اور اتوار کے روز صادق آباد میں تاجروں نے اس واقعہ کے خلاف ہڑتال کی اور ’پولیس مقابلے‘ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔اسی طرح صادق آباد تحصیل کی عدالتوں میں کام کرنے والے وکلاء نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا اور واقعہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقیات کا مطالبہ کیا۔

رانا شہزاد عرف ٹیپو کے والد رانا طالب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو جیش محمد کے کہنے پر ’منظر سے ہٹایا گیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بڑے بیٹے طاہر ندیم نے کئی برس قبل افغانستان سے گوریلا جنگ کی تربیت حاصل کی اور بعد میں جیش محمد میں شامل ہو کر (بھارت کے زیر انتظام) کشمیر کے محاذ پر ’جہاد‘ کے لیئے چلا گیا اور اپنی کاروائیوں کی وجہ سے جہادیوں میں ’غازی بابا‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

’تیس اگست دو ہزار تین کو بھارتی اہلکاروں کے ساتھ ایک مقابلے میں سری نگر کے محاذ پر میرا بیٹا غازی بابا شہید ہوگیا۔ اس کی شہادت کے کچھ روز بعد جیش محمد کے مقامی کارندے ایک کشمیری لڑکی سعدیہ اور ایک چار سالہ بچی فاطمہ کو میرے گھر لائے اور بتایا کہ یہ غازی بابا کی بیوہ اور بیٹی ہیں‘۔

جیش کی طرف سے کہا گیا
 پولیس کے ہاتھوں مرنے سے ایک روز قبل مولانا خالد نے فون کر کے انہیں (رانا طالب کو) کہا کہ وہ ٹیپو کو سمجھائیں ورنہ وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
والد رانا طالب

ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کی نشانی سامنے پا کر وہ بہت خوش ہوئے اور وہ دونوں ماں بیٹی ان کے ساتھ رہنا شروع ہوگئے۔ لیکن کچھ ہی عرصہ میں جیش محمد والوں نے انہیں مطلع کیا کہ غازی بابا کی بیوہ سعدیہ کی شادی مانسہرہ کے علاقے بالا ہٹیاں سے تعلق رکھنے والے ایک مجاہد سیف اللہ سے طے کر دی گئی ہے۔ اس پر سعدیہ ان کے ساتھ چلی گئی جبکہ پوتی فاطمہ کو انہوں نے اپنے پاس رکھ لیا۔

تاہم بعد میں جیش محمد والوں نے ان پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ فاطمہ کو اس کی ماں کے حوالےکر دیا جائے۔ رانا طالب کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جس پر انہیں جیش کی ’اعلیٰ قیادت‘ جن میں مولانا خالد کراچی اور مولانا اصغر مظفر آباد سے شامل تھے فون پر پہلے سمجھاتے اور بعد میں دھمکاتے رہے۔ مولانا خالد کے بارے میں رانا طالب کا کہنا تھا کہ وہ ان ہائی جیکروں میں شامل تھے جو دسمبر سال دو ہزار میں ایک بھارتی طیارہ اغوا کر کے کابل لے آئے تھے اور جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر، عمر سعید شیخ (ڈینیل پرل قتل میں مبینہ ملوث) اور مشتاق زرگر سمیت کئی دوسرے افراد کو بھارتی قید سے آزاد کرانے میں کامیاب رہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے مسلسل انکار پر انہیں کہا گیا کہ سعدیہ کی ملاقات ان کی بیٹی سے جیش محمد کے صادق آباد میں ایک عملدآر حاجی صفدر کے گھر کرا دیں۔ رانا طالب کے مطابق ان کی بیوی پوتی کو لے کر حاجی صفدر کے گھر گئیں تو سعدیہ وہاں موجود تھیں جن کے اصرار پر فاطمہ کو ایک روز کے لیئے ان کے پاس رہنے دیا گیا۔ لیکن اگلے دن جب وہ پوتی کو لینے گئے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ جا چکی ہے۔ احتجاج کرنے پر سختی کے ساتھ خاموشی اختیار کرنے کو کہا گیا۔

رانا طالب کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا شہزاد ٹیپو بھی بھائی کی دیکھا دیکھی عسکری تربیت حاصل کرنے افغانستان گیا اور مولانا خالد کے کیمپ میں رہا۔ تاہم فاطمہ کے ’چھینے‘ جانے والے واقعے سے دلبرداشتہ ہو کر جہادی سرگرمیاں ترک کر کے فیصل آباد میں سکونت اختیار کر لی۔

بڑے بھائی کی دیکھا دیکھی شہزاد ٹیپو بھی عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیئے افغانستان گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ’اندرونی کہانی‘ کا تو علم نہیں کہ ٹیپو کے جیش کی قیادت سے کیا اختلافات تھے لیکن پولیس کے ہاتھوں مرنے سے ایک روز قبل مولانا خالد نے فون کر کے انہیں (رانا طالب کو) کہا کہ وہ ٹیپو کو سمجھائیں ورنہ وہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

مبینہ پولیس مقابلے کی حقیقت سے متعلقہ جاری محکمہ جاتی تحقیقات کے انچارج ایس پی راؤ سلیم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے رانا طالب کے بڑے بیٹے غازی بابا کی ’جہاد‘ میں ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو کے بارے میں ابھی انہیں علم نہیں کہ آیا وہ بھی جہادی سرگرمیوں میں شامل رہا ہے۔ ’ہمارے پاس اب تک جو معلومات اکٹھی ہوئی ہیں ان کے مطابق وہ پچھلے کچھ عرصے سے فیصل آباد کے علاقے میں اغوا برائے تاوان اور قتل کی متعدد واردتوں میں ملوث تھا‘۔

فاطمہ کے مبینہ اغوا سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پولیس کو کبھی بھی کوئی شکایت نہیں کی گئی۔ ’ویسے بھی یہ ان کا خانگی معاملہ ہے پولیس اس میں کیسے مداخلت کر سکتی ہے‘۔

رانا طالب کا کہنا تھا کہ وہ ایک غریب آدمی ہیں اور سائیکلوں کو پنکچر لگا گذر بسر کرتے ہیں۔’ایک طرف جہادی رہنما اور دوسری طرف پولیس، کوئی بھی میری نہیں سنتا۔اس سارے بکھیڑے میں میرے دو بیٹے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اب مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ میں خاموش ہو جاؤں‘۔

کالعدم جیشن محمد کی مر کزی مجلس عاملہ کے رکن اور ترجمان حسن برکی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غازی بابا ان کے کمانڈر تھے اور اس حوالے سے وہ ان کے خاندان کا بہت احترام کرتے ہیں لیکن ان کے والد کی طرف سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غازی بابا کی بیوہ اور بیٹی کو ’شہید‘ کی وصیت کے مطابق پاکستان لایا گیا تھا تاکہ باقی زندگی وہ صادق آباد میں ان کے والدین کے ساتھ رہیں۔ بعد میں رانا طالب نے کوشش کی کہ غازی بابا کی بیوہ کی شادی اپنے ’جرائم پیشہ‘ بیٹے ٹیپو سے کردیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ جب تنظیم کے عہدیداروں کے علم میں آیا تو انہوں نے عورتوں کے ذریعے بیوہ سے ان کی مرضی پوچھی تو معلوم ہوا کہ وہ اس رشتے سے انکاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیپو کا کبھی بھی جیش محمد سے تعلق نہیں رہا۔ ’ہاں البتہ وہ غازی بابا کی زندگی میں ایک دفعہ افغانستان تربیت کے لیئے آئے تھے۔ جہاں ان کا طرز عمل کوئی اچھا نہ تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ تو ان کی تنظیم کے پولیس کے ساتھ ایسے تعلقات ہیں کہ ’وہ ہمارے کہنے پر لوگوں کو مارتے پھریں‘ اور نہ اتنے وسائل کے اس کام کا انہیں معاوضہ دیا جا سکے۔

’گلی محلے کے ایسے غنڈوں کو سبق سکھانے کے لیئے ہمیں پولیس کی مدد کی ضرورت نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل رانا طالب نے اخبارات کے ذریعے ٹیپو سے اس کی حرکتوں کی وجہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا اور یہ ریکارڈ کی بات ہے۔

حسن برکی کا کہنا تھا ایسا لگتا ہے کہ رانا طالب ان کی تنظیم کے مخالفین کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد