BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 15 November, 2003, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی اسلامی تنظیموں پر پابندی
 لشکر
لشکرِ جھنگوی کو دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے

پاکستان نے جیش محمد اور سپاہِ صحابہ سمیت ان تین تنظیموں کو ممنوعہ قرار دے دیا ہے جو نام بدل کر کام کر رہی تھیں۔

پابندی کا یہ فیصلہ امن و امان کے سلسلے میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت صدر جنرل پرویز مشرف نے کی اور جس میں وزیراعظم ظفر اللہ جمالی بھی شریک تھے۔

ان تنظیموں پر پابندی انیس سو ستانوے کے انسداد ِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی ہے۔

جن تنظیموں پر پابندی لگائی گئی ہے ان کے بارے بتایا گیا ہے کہ ان میں سابق تحریکِ جعفریہ پاکستان اب اسلامی تحریکِ پاکستان کے نام سے کام کر رہی تھی۔

جب کہ سپاہِ صحابہ پاکستان نے ملتِ اسلامیہ پاکستان کا نام اختیار کر لیا تھا اور خدامِ اسلام کے نام سے کام کرنے والی تنظیم دراصل سابق جیشِ محمد کی بدلی ہوئی شکل ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی حکومت نے ایک اور تنظیم جماعت الدعوۃ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کہ یہ تنظیم پہلے لشکرِ طیبہ کے نام سے کام کرتی تھی اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مسلح سرگرمیوں کے لیے کھلے عام دعوت دیتی تھی۔

سرکاری اعلان کے مطابق کسی بھی شدت پسند یا فرقہ ورانہ نظریات رکھنے والی تنظیم کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جو لوگ غیر قانونی اسلحہ رکھیں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ مذہبی جماعتوں کے لیے جلسۂ عام بلانے سے پہلے انتظامیہ سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہو گا۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان تینوں تنظیموں پر جنرل پرویز مشرف نے سن دو ہزار ایک میں پابندی عائد کی تھی لیکن اس کے باوجود وہ نام بدل کر کام کرتی رہیں۔

ممنوعہ تنظیم جماعت الدعوۃ کے بانی حافظ سعید

اجلاس کے چند ہی گھنٹے بعد پولیس نے مذکورہ تنظیموں کے دفاتر پر چھاپے مارنے شروع کر دیے اور ان دفاتر میں موجود تمام مواد اور تشہیر کا سامان قبضے میں لے لیا۔

بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ تنظیموں کے رہنما گرفتاریوں سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جنرل پرویز مشرف نے امن و امان کے سلسلے میں ہونے والے میں اس اجلاس میں شریک اعلیٰ افسران کو اس عالمی تشویش کے بارے میں بتایا جو بیرون ملک پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال کے بارے میں پائی جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اس صورتِ حال کو معاشی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد