کراچی: بارش سے طغیانی کا خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے وقفے وقفے سے جاری بارش کے بعد لیاری ندی میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر چھ سو افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ شہر میں بارش کا سلسلہ جمعہ کے روز سے جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے چیف میٹالاجیکل افسر عارف محمود نے بتایا کہ کراچی میں بائیس سے ستائیس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اندرون سندھ میں بھی بارش جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارش کا سلسلے آئندہ بارہ گھنٹے تک جاری رہےگا۔ کراچی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں بارش کے بعد لیاری ندی میں پانی آگیا ہے۔ جس وجہ سے ندی میں گھر بنا کر رہنے والے لوگوں کے گھر زیر آب آگئے ہیں۔ کراچی کے چیف فائر آفیسر کاظم رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کو ضیاء الحق کالونی میں لیاری ندی کا پانی آ گیا تھا جس وجہ سے وہاں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کے لیاری ایکسپریس وے بننے کے بعد کافی لوگوں نے لیاری ندی کے اندر رہائش اختیار کر لی تھی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایکسپریس وے کے متاثرین کی حیثیت سے ان کو بھی کچھ مل جائےگا۔ کاظم رضا کا کہنا تھا کہ مساجد سے اعلان کیے گئے ہیں کہ جو بھی منتقل ہونا چاہتا ہے، اس کی مدد کی جائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ انتظامات کسی نقصان سے بچنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے لیاری ندی کے ہر ایک نالے پر ایک ایمبولینس کھڑی کی گئی ہے۔ شہر میں بارش کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ سڑکیں زیر آب آگئی ہیں جبکہ بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ بارش کی وجہ سے ٹرینوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں سے کراچی آنے والی ریل گاڑیاں تاخیر سے پہنچ رہی ہیں۔جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد معلومات کے لیے کینٹ اور سٹی اسٹیشن کے چکر لگاتی رہی۔ ریلوی انکوائری کے افسر خادم حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب میں شدید بارش کی وجہ سے تمام گاڑیاں تاخیر سے پہنچ رہی ہیں جبکہ کچھ مقامات پر ٹرینوں کی آمدورفت روک دی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||