چکوال: ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ پنجاب کی حکومت نے ضلع چکوال کی سرکاری ہسپتال میں ہڑتال کرنے والے ڈاکٹرز میں سے کانٹریکٹ پر کام کرنے والے دس ڈاکٹرز کو ملازمت سے فارغ کردیا ہے جبکہ اٹھارہ دیگر کے خلاف برطرفی کی کارروائی شروع کردی ہے۔ یہ بات پنجاب کے سپیشل سیکریٹری صحت خواجہ شمائل نے جمعہ کو سپریم کورٹ کو بتائی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ تین ڈاکٹرز کے خلاف بچوں کے علاج معالجے میں غفلت برتنے کا مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق ان میں سے سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عامر کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دیگر دو ڈاکٹرز توقیر منہاس اور سعادت نے قبل از گرفتاری ضمانت کرالی ہے۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ کے معاون وکیل بابر اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ چند ہفتے قبل ضلع چکوال کے ہسپتال میں ہلاک ہونے والے بچے حمزہ کے والد اطہر عباس نے الزام لگایا تھا کہ ان کا بچہ ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت کی وجہ سے مرگیا ہے تو سپریم کورٹ نے اس کا ازخود نوٹس لے لیا تھا۔ وکیل کے مطابق عدالت کے نوٹس لیے جانے پر چکوال کے ضلعی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے ہڑتال کی تھی اور اس دوران بعض بچے علاج کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے جس میں ایک بچی مبین بشریٰ بھی شامل تھی۔ بابر اعوان نے بتایا کہ عدالت نے پنجاب کی صوبائی حکومت کو حکم دیا تھا کہ ہڑتال کرنے والے تمام ڈاکٹرز کا ضلع سے باہر تبادلہ کیا جائے اور غفلت برتنے والے ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وکیل کے مطابق عدالتی حکم پر کارروائی کرنے کے بارے میں سپیشل سیکریٹری صحت کی رپورٹ پر عدالت نے اطمینان ظاہر کیا اور ہدایت کی کہ ہڑتال کرنے والے ڈاکٹرز کو شو کاز نوٹس جاری کیے جائیں اور ان سے جواب طلب کیا جائے کہ کیوں نہ ان کے خلاف عدالتی حکم ماننے سے انکار پر توہیں عدالت کی کارروائی کی جائے۔ عدالتی نوٹس پر سپیشل سیکریٹری صحت کی رپورٹ پر عدالت نے اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ سرکاری ڈاکٹرز کی نجی پریکٹس کے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ جب عدالت کے علم میں لایا گیا کہ ڈاکٹر سعادت اور ڈاکٹر توقیر منہاس چکوال ہسپتال کے اپنے ساتھی ڈاکٹر شہریار خان اور سٹاف نرس حسنینیہ نورین کو حراساں کر رہے ہیں اور ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے تو عدالت نے ضلعی پولیس سربراہ کو حکم دیا کہ وہ ڈاکٹر اور نرس کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔ جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے مزید سماعت دسمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں اساتذہ ، ڈاکٹرز اور دیگر شعبوں کے سرکاری ملازمین وقت بوقت ہڑتال کرتے رہتے ہیں لیکن ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہڑتال کرنے والے سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا جائے۔ | اسی بارے میں پاکستان: نظام صحت کی بد حالی20 January, 2004 | پاکستان بے روزگار ڈاکٹروں کااحتجاج 23 September, 2003 | پاکستان کراچی میں ڈاکٹروں کا احتجاج24 November, 2005 | پاکستان ڈاکٹر برادران کی رہائی کا مطالبہ 11 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||