| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان: نظام صحت کی بد حالی
پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن (پی ایم اے) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چھ لاکھ سے زیادہ جعلی یا عطائی ڈاکٹر غریب عوام کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ حال ہی میں پیش کی گئی اپنی سالانہ رپورٹ میں پی ایم اے نے ملک میں رائج صحت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں جعلی ڈاکٹر اپنے کلینک چلا رہے ہیں۔ وہ ہنگامی علاج حتٰی کہ آپریشن بھی کررہے ہیں لیکن قانونی طور پر ان کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت ایسی نام نہاد ادویات کے استعمال کو روکنے میں بھی ناکام رہی ہے جن کے ذریعے کینسر اور جنسی مسائل کے علاج کا دعوٰی کیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں انتہائی ضروری ادویات دستیاب نہیں ہیں لیکن ایسی جعلی اور غیر معیاری ادویات بھری پڑی ہیں۔ پی ایم اے کا کہنا ہے کہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کے ضمن میں صوبائی حکومتوں کی پالیسیاں غیر موزوں ہیں۔ نجی میڈیکل کالجوں کی پالیسی کے سبب مہنگی فیس کے عوض غیر معیاری تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں کو بے روزگاری کا سامنا بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پانچ ہزار، سندھ میں تین ہزار، بلوچستان میں بارہ سو اور سرحد میں ایک ہزار ڈاکٹر بے روزگار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر آٹھ ڈاکٹروں کی مدد کرنے کے لئے صرف ایک نرس ہوتی ہے اور ہر دو ہزار تین سو افراد کے لئے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیرا میڈیکل اسٹاف کی کمی کے نیتجے میں ملک میں صحت کےبنیادی مراکز اور تعلقہ ہسپتالوں کا نظام زمین بوس ہونے کے خطرے سے دو چار ہے۔ سالانہ رپورٹ میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کے ’کمیونٹی دائی منصوبے‘ کو بھی ناقص قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تربیت یافتہ اساتذہ کی عدم موجودگی میں اہل اور باصلاحیت دائیاں پیدا نہیں کی جا سکیں گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||