BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2003, 17:41 GMT 21:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بے روزگار ڈاکٹروں کااحتجاج

پاکستانی ڈاکٹر
’اگر حالات یہی رہے تووہ اپنے آپ کو بھی آگ میں جھونک سکتے ہیں‘

کوئٹہ میں بے روزگار ڈاکٹروں نے احتجاج کے طور پر اپنے سفید کوٹ نظرِ آتش کر دئے ہیں۔ان ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ انہیں فورًا نوکریاں دلوائی جائیں ورنہ اگلے مرحلے میں وہ اپنے آپ کو آگ لگانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

بولان میڈیکل کالج اور کمپلیکس کے سامنے بے روزگار ڈاکٹروں نے احتجاج کرتے ہوئے زبردست نعرہ بازی کی۔ انہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر روزگار کے مطالبات تحریر تھے۔

بلوچستان کے واحد میڈیکل کالج سے ہر سال تقریباً دو سو ڈاکٹر ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت صوبہ بھر میں تقریباً گیارہ سو ڈاکٹر بے روزگار ہیں۔

بے روزگار ڈاکٹروں کے نمائندے ڈاکٹر فہیم آفریدی نے کہا ہے کہ اس سال کوئی چار سو طلباء کو داخلہ دیا گیا ہے اور ملازمتوں کی یہی حالت رہی تو بے روزگار ڈاکٹروں کی تعداد کئی گنا بڑھ جائے گی۔

انھوں نے بولان میڈیکل کالج کو ایک مشین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال سینکڑوں ڈاکٹر میدان میں نکلتے ہیں لیکن ان کے لیے روزگار کا انتظام نہیں ہوتا۔ انھوں نے تجویز دی ہے کہ اگر حکومت روزگار فراہم نہیں کر سکتی تو کالج کو بند کردیا جائے۔

فہیم آفریدی نے کہا ہے کہ وہ دور دراز علاقوں میں بھی نوکری کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں ڈاکٹروں کی ضرورت زیادہ ہے۔ ا نہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں کئی آسامیاں خالی پڑی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شیخ زید ہسپتال میں باہر کے لوگوں کو روزگار دیا جا تا ہے جبکہ صوبے کے لوگوں کو دھتکار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ آج انہوں نے اپنے کوٹ نذر آتش کئے ہیں کل وہ اپنے آپ کو بھی آگ میں جھونکنے سے گریز نہیں کریں گے۔

صوبائی اسمبلی نے بھی اس موضوع پر بحث کی ہے۔ اراکین اسمبلی نے کہا ہے کہ بے روزگاری کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔

صوبائی وزیر صحت حافظ حمداللہ نے اس بارے میں کہا ’یہ سب کچھ ماضی کی حکومتوں کا کیا دھرا ہے کیونکہ محکمہ صحت کی پالیسی بہت انوکھی ہے یہاں ترقی پانے والے ڈاکٹروں کی خالی آسامیاں ختم کردی جاتی ہیں تاکہ مزید ڈاکٹر تعینات نہ کیے جا سکیں‘۔

انہوں نہ کہا کہ وہ کابینہ اور صوبائی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کریں گے جس سے تقریباً چھ سو اسامیاں پیدا ہوں گی اور یہ بل ڈیڑھ ماہ کے اندر پیش کردیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد