BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 March, 2006, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈاکٹر برادران کی رہائی کا مطالبہ

پریس کانفرنس
ڈاکٹر رہنماؤں نے کہا کہ دونوں بھائیوں کو حراست میں رکھنا عدالتی فیصلے کے خلاف ہے
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر اکمل وحید اور ارشد وحید کو فوری آزاد کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں زیر حراست رکھنے کا حکم عدالتی فیصلے کے خلاف ہے جس پر توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

سندھ ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز انسداد دہشتگردی کی عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیکر ڈاکٹر اکمل وحید اور ان کے چھوٹے بھائی ارشد وحید کو باعزت بری کردیا تھا ۔جس کے بعد دونوں کو ایم پی او کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر بھائیوں پر الزام تھا کہ انہوں نے کراچی میں کور کمانڈر اور رینجرز پر حملوں میں ملوث شدت پسند تنظیم جنداللہ کے زخمی کارکنان کا علاج کیا ،پناہ دی مالی امداد فراہم کی اور تربیت کے لئے بھیجا۔

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مسبحہ اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ڈاکٹر شیر شاہ نے ڈاکٹر اکمل کی اہلیہ
فوزیہ وحید کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹر برادران نے غیر قانونی یا پیشے کے تقدس کے خلاف کام نہیں کیا۔ ہر ڈاکٹر اس بات کا حلف اٹھاتا ہے کہ وہ کسی بھی مریض کا علاج کرے گا‘۔

 میں ایک بیروزگار میڈیکل سٹوڈنٹ تین بچوں کو لے کر تنہا زندگی جنگ لڑنے میں ناکام رہی ہوں
فوزیہ وحید

انہوں نے کہا کہ جن پیشہ ور لوگوں سے ان کا تعلق جوڑنے کی کوشش کی جارہی تھی، عدالتی فیصلے نے اس کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ جس سے ڈاکٹروں اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت سے نجات ملی۔

ڈاکٹر رہنماؤں نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے دونوں بھائیوں کو حراست میں رکھنے کا حکم عدالتی فیصلے کے خلاف ہے۔ جس کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ کے فیصلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عدالتیں زیادہ فیصلہ کن ہیں یا محکمہ داخلہ۔ اگر عدالتوں کی کوئی حیثیت نہیں تو ان کے وجود کی کیا ضرورت ہے۔

ڈاکٹر شیر شاہ نے کہا کہ اگر کسی بھی ڈاکٹر پر جرم ثابت ہوتا ہے تو ہم کبھی ان کی میں پریس کانفرنس نہیں کریں گے۔ موجود فیصلہ کے خلاف ہر ممکن احتجاج کیا جائے گا۔

ڈاکٹر اکمل کی اہلیہ ڈاکٹر فوزیہ کا کہنا تھا کہ وہ دو سال سے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ اذیت کی زندگی گزار رہی ہیں۔

انہوں نے کہا ’انسداد دہشتگردی کی عدالت کی جانب سے قید کی سزا کے بعد اداروں نے ڈاکٹر برادران کی تنخواہیں بھی بند کردیں اور میں ایک بیروزگار میڈیکل سٹوڈنٹ تین بچوں کو لے کر تنہا زندگی جنگ لڑنے میں ناکام رہی ہوں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے والدین بھی بیماری کا شکار ہوگئے ہیں ۔’ہم بے آسرا بے سہارا۔بے یارو مددگار کس سے فریاد کریں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد