ڈاکٹر بھائیوں کی رہائی اور گرفتاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات کو ڈاکٹر اکمل وحید اور ان کے بھائی ڈاکٹر ارشد وحید کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا لیکن کچھ دیر دونوں بھائیوں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ ان دونوں بھائیوں پر القاعدہ کے مبینہ ارکان کو پناہ دینے اور کراچی کے سابقہ کور کمانڈر جنرل احسن سلیم حیات پر حملے میں ملوث جنداللہ تنظیم کے ارکان کی مالی اور طبی امداد اور ان کو وانا میں تربیت کے لئے بھیجنے کے الزامات ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس واحد بخش بروہی اور جسٹس رحمت اللہ جعفری پر مشتمل بنچ نے اپنے مختصر فیصلے میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر بھائیوں کی ضمانت منظور کی جاتی ہے جس کے بارے میں تفصیلی وجوہات بعد میں تحریر کی جائیں گی۔ وحید برادران کے وکیل الیاس خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر بھائیوں کو پانچ لاکھ فی کس زر ضمانت ادا کرنا ہو گا۔ ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر حکومت انہیں کسی اور الزام میں گرفتار نہیں کرتی تو ان کو آج کسی وقت رہا کر دیا جائے گا۔ صوبائی وزیرِ داخلہ رؤف صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکٹر بھائیوں کو دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ضمانت صرف ایک مقدمے میں ہوئی تھی۔ ڈاکٹر اکمل اور ڈاکٹر ارشد کے خلاف گلشن اقبال تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں ان کو جنداللہ کے مبینہ ارکان کو مقتول قبائلی جنگجو نیک محمد کے بھائی عبیداللہ کے پاس تربیت کے لئے بھجوانے اور القاعدہ کے مبینہ ارکان ابو مصاب اور گل حسن کو پناہ دینے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ ان پر کراچی کے سابقہ کور کمانڈر جنرل احسن سلیم حیات پر دس جون کو کلفٹن پل پر ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے جن کو بعد میں واپس لے لیا گیا تھا۔ ڈاکٹرا کمل وحید اور ڈاکٹر ارشد وحید کو اس سال جولائی میں گرفتار کیا گیا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ستائیس اکتوبر کو ڈاکٹر بھائیوں کی درخواست ضمانت رد کر دی تھی جس کے بعد ان کے والد نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس کا فیصلہ ان کے حق میں ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||