حکومت، پی پی پی مذاکرات کس لیے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو قومی اسمبلی میں وہی ہوا جس کا خدشہ تھا کہ حکومت حزب مخالف کے خلاف اپنی اس قرار داد پر بحث کرانے سے بظاہر گریزاں نظر آئی جس میں انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا تھا کہ وہ چیف جسٹس کی معطلی کے حوالے سے عدلیہ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ بدھ کو وزیر قانون محمد وصی ظفر نے یہ قرار داد منظور کرائی تھی اور سپیکر نے جمعرات کو اس پر بحث کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن ایجنڈے پر ہوتے ہوئے بھی اس بارے میں بحث نہیں ہوئی اور حکومت دن بھر کارروائی دیگر معاملات پر چلاتی رہی۔ حزب مخالف کے اراکین بار بار اس کا مطالبہ کرتے رہے کہ ان کے خلاف حکومتی قرار داد پر بحث کرائی جائے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ سپیکر نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے کرسی صدارت پینل آف چیئرمین کی حزب مخالف کی رکن مہرین انور راجہ کے سپرد کی اور ایوان سے چلے گئے۔ مہرین انور راجہ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور جب انہوں نے اجلاس کے آخری مرحلے کی کارروائی چلائی اور متحدہ مجلس عمل کے ایک رکن شاہ عبدالعزیز کو بات کرنے کا موقع دیر سے دیا تو انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ ’ ڈیل‘ کا حصہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی رکن سپیکر کا کام سرانجام دے رہی ہیں؟
پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف، شیری رحمٰن اور قمر الزمان کائرہ ، مسلم لیگ نواز کے سعد رفیق اور خواجہ آصف متحدہ مجلس عمل کے لیاقت بلوچ اور دیگر نے بڑے زور و شور سے یہ معاملہ اٹھایا کہ حکومت چیف جسٹس کی معطلی کے حوالے سے اپوزیشن کے کردار کے متعلق اپنی قرار داد پر بحث کرائے۔ اس دوران وزیر قانون وصی ظفر ایک بار پھر حزب مخالف کے اراکین کی تنقید کا نشانہ بنے اور لیاقت بلوچ نے طنزیہ کہا کہ وزیر قانون نے عدالتی بحران کے حوالے سے بحث کی قرار داد پیش کر کے پہلی دفعہ اپنی ذہانت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ وزیر قانون ایوان میں موجود نہیں تھے اور اس دوران کئی اراکین نے حکومت اور خاص طور پر وزیر قانون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب حکومت اپنی قرار داد پر بحث سے فرار اختیار کر رہی ہے۔ کسی نے کہا کہ حکومت پھنس گئی ہے اور اب قرار داد واپس لینا چاہتی ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے وضاحت کی کہ حکومت قرار داد واپس نہیں لے گی اور اس پر بحث ضرور ہوگی۔ تاہم انہوں نے کہا بحث میں حصہ صرف وہ ہی لے سکتے ہیں جنہوں نے اس کی مخالف کی تھی۔ مسلم لیگ نواز کے خواجہ محمد آصف نے آواز لگائی کہ وزیر قانون مفرور ہوگئے ہیں۔ لیکن اجلاس کی کارروائی ختم ہونے سے ذرا پہلے وزیر قانون وصی ظفر ایوان میں آئے اور انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی قرار داد پر قائم ہے اور بحث کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ پیر کو جب قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تھا تو حزب مخالف نے عدالتی بحران پر بحث کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پر حکومت نے کہا تھا کہ عدالت میں زیر بحث معاملات پر اسمبلی میں بات کرنا خلاف قانون ہے۔ لیکن دو روز بعد ہی گزشتہ روز وزیر قانون نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے وقت عدالت کے باہر مظاہرے کرنے اور سرکاری وکلاء کو برا بھلا کہنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حزب مخالف کا رویہ عدلیہ پر اثرا انداز ہونے کا ہے اس لیے اس پر بحث کی جائے۔ لیکن بعد میں حکومت کو احساس ہوا کہ یہ تو انہوں نے وہی کیا جو اپوزیشن والے چاہتے ہیں یعنی سارے معاملے پر بحث ہوگی اور جہاں حکومت حزب مخالف پر تنقید کرے گی وہاں اپوزیشن والے عدالتی بحران کا معاملہ اٹھا کر حکومت کے لیے مسئلہ پیدا کریں گے۔ قومی اسمبلی کی کارروائی اب جمعہ کی صبح تک ملتوی کی گئی ہے اور دیکھنا یہ ہے حکومت کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ قبل ازیں جمعرات کی کارروائی کے دوران ایک موقع پر راجہ پرویز اشرف نے حکومت سے ڈیل کے بارے میں الزامات کی وضاحت کرنا چاہی تو سپیکر نے کہا کہ بس اب رہنے دیں۔ راجہ پرویز اشرف وضاحت کے لیے بضد تھے اور جب انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ڈیل نہیں کر رہی بلکہ مذاکرات کر رہی ہے۔ لیکن وہ اس وقت لاجواب ہو گئے جب سپیکر پوچھا کہ مذاکرات کس لیے کر رہے ہیں؟ |
اسی بارے میں جسٹس بحران پر اپوزیشن واک آؤٹ23 April, 2007 | پاکستان حکومت حمایتی ارکان پھر غیرحاضر23 February, 2007 | پاکستان قانونی اصلاحات کا بل منظور15 February, 2007 | پاکستان فاتحہ کی اجازت نہ ملنے پرہنگامہ 13 November, 2006 | پاکستان ’جرنیل اور جج تنقید سے بالاتر‘18 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||