قانونی اصلاحات کا بل منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی نے قانونی اصلاحات کا ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت پولیس کسی بھی گرفتار کیے جانے والے شخص کے لواحقین سے چوبیس گھنٹے کے اندر رابطہ کر کے گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں آگاہ کرے گی۔ اس بل کے تحت غلط مقدمہ درج کرانے والے کو عدالت اور فریق مخالف کے اخراجات کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ ترمیمی بل میں کہا گیا ہے کہ گرفتار شخص کو تھانے میں وکیل سے رابطہ یا قانونی مشورہ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔ اسی بل کے تحت فوجداری اور دیوانی مقدمات کی سماعت الگ الگ مجسٹریٹ کریں گے اور عدالت محض ایک فریق کی بات سننے کے بعد حکم امتناعی جاری نہیں کر سکے گی، البتہ کسی عمارت کی مسماری یا کسی کو بے دخل کیے جانے کا معاملہ اس قانون سے مستثنیٰ ہوگا۔
اسی قانون کے تحت تنازعات کے متبادل حل کی کمیٹی بنائی جائے گی اور عدالت ایسا ثالث مقرر کر سکے گی جو دونوں فریقین میں تصفیہ کرانے کی کوشش کرے گا۔ ثالث کو تصفیہ کے لیے ساٹھ دن دیے جائیں گے، جن میں مزید تیس روز کی توسیع کی جا سکے گی۔ تصفیہ کی کوششوں کے دوران عدالتی کارروائی جاری رہے گی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں درخواست وصول ہونے کے روز ہی مخالف فریق کو سمن جاری ہوجائیں گے، جو جدید طریقوں کے تحت ای میل اور فیکس کے ذریعے بھی جاری کیے جاسکیں گے۔ اس کےعلاوہ مختار نامہ کی زیادہ سے زیادہ مدت تین برس ہوگی، جس کے بعد یہ خود بخود ختم تصور کیا جائے گا۔ بل کی خواندگی کے دوران اپوزیشن نے اس بل پر اعتراضات کیے، جو سپیکر قومی اسمبلی نے مسترد کر دیے۔ اس پر متحدہ مجلس عمل اور اپوزیشن کے دیگر اراکین نے یہ کہہ کر علامتی واک آوٹ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کے صدر رہتے ہوئے قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ وفاقی وزیر قانون وصی ظفر نے بل کی منظوری کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد قانونی طریقہ کار میں آسانی پیدا کرنا اور عام آدمی کی انصاف تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط مقدمے سے متاثرہ فریق اگر کسی دوسرے شہر کا رہائشی ہے تو غلط مقدمہ درج کرانے والے کو اس کے سفری اور دیگر تمام اخراجات بھی ادا کرنا ہونگے۔ | اسی بارے میں اسناد: ایم ایم اے اراکین کو نوٹس12 February, 2007 | پاکستان حقوق نسواں، دوسرا بِل اسمبلی میں13 February, 2007 | پاکستان حسبہ بل کے لیے آئینی لڑائی ہوگی15 December, 2006 | پاکستان حدودبل،اختلافات نہیں:شوکت عزیز04 December, 2006 | پاکستان شادی میں ’ون ڈش‘ پر اتفاق02 May, 2006 | پاکستان ’پارلیمان میں قانون سازی کم ہوئی‘26 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||