BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 December, 2006, 18:08 GMT 23:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسبہ بل کے لیے آئینی لڑائی ہوگی

حسبہ بل کے خلاف احتجاج
حسبہ بل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے باوجود اسے منظور کرلیا گیا تھا
سرحد حکومت کا کہنا ہے کہ وہ حسبہ بل کے مسئلے پر مرکزی حکومت کے ساتھ آئینی جنگ کے لیے تیار ہیں۔

سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے جمعہ کی شام صوبائی دارلحکومت پشاور میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہاہے کہ وہ حسبہ بل کے دفاع کے لیے اپنے قانونی صلاح کاروں سےمشورہ کر رہے ہیں تاکہ عدالت میں اس کا بھرپور دفاع کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ عدالت حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے درست فیصلہ دے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی دورانی نےاس بیان پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ حسبہ کے ادارے کے قیام پر صوبائی حکومت کے آٹھ ارب روپے خرچ ہونگے۔

ان کے مطابق اس ادارے کے قیام پر صرف دو کروڑ پینسٹھ لاکھ روپے کے اخراجات کا تخمینہ ہے۔’مجھے نہیں معلوم کہ وزیر نے یہ اعداوشمار کہاں سے حاصل کیے ہیں یا شاید انہیں یہ خواب میں ملے ہیں۔‘

وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق نئے حسبہ بل سے تمام متنازعہ شقیں نکال دی گئی تھیں لہذا اب اس میں مزید خدشات کی ضرورت نہیں تھی۔

اکتوبر دو ہزار دو کے عام انتخابات میں دینی جماعتوں کے اتحاد، متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے اسلامی نظام کے قیام کا نعرہ لگا کر کامیابی حاصل کی تھی۔

سرحد اسمبلی سے دو ہزار تین میں شریعت بل کی منظوری کے بعد اسے ایک ایسا نظام چاہیے تھا جس کے ذریعے بقول ان کے وہ اسلامی اقدار پر عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔ اس مقصد کے لیے اس نے حسبہ کے دارے کے قیام کے بارے میں سوچاتھا۔

سرحد حکومت نے صوبائی محتسب کے ادارے کو اپنی سوچ کے مطابق ڈھالاہے اور اسے تحصیل، ضلع اور صوبے کی سطح پر نافذ کرنے کے لیے پہلا حسبہ بل منظور کروایا جس میں محتسب کو اسلامی اقدار نافذ کرنے کے لیے کافی اختیارات دیے گئے۔

اسکے مطابق محتسب کی ذمہ داری نیکی کی تلقین اور بدی سے روکنا ہوگا۔ شادیوں میں فضول خرچی روکنا اور عوامی مقامات پر لوگوں کو اسلامی اقدار کا پابند بنانے جیسے کام بھی اس کی ذمہ داری میں شامل ہیں۔

تاہم حکومت عام شہریوں کی مشکلات دور کرنے میں ناکام رہی ہے۔ پشاور کے محمد قادر کا کہنا تھا کہ اصل مسائل منہگائی اور بے روزگاری ہیں۔

’ادھر صوبائی حکومت حسبہ اور وہاں وفاقی حکومت حقوق نسواں کی بات کرتی ہے۔ ہمیں نہیں معلوم یہ سب کیا ہے۔ اب تو ہم ٹی وی کے سامنے نہیں بیٹھ سکتے۔ ہر وقت زنا بلجبر اور زنا بالرضا کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ہمارے بچے ہم سے پوچھتے ہیں زنا کیا ہے۔ اب انہیں کون سمجھائے۔‘

محمد قادر کا کہنا تھا کہ یہ سب عام انتخابات کے لئے کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
حسبہ بل، حکومت مخمصے میں
14 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد