BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 February, 2007, 17:35 GMT 22:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسناد: ایم ایم اے اراکین کو نوٹس

سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)
عدالت نے نااہل قرار دینے سے متعلق آئینی درخواستوں پر متحدہ مجلس عمل کے اراکین کو بارہ مارچ کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مجلس عمل کے اڑسٹھ اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے سے متعلق مختلف آئینی درخواستوں کی مختصر سماعت کے بعد انہیں تیسری مرتبہ طلبی کے نوٹس جاری کر دیے ہیں اور ہدایت کی ہے کہ وہ بارہ مارچ کو عدالت میں حاضر ہوں۔

ان اراکین اسمبلی کےخلاف مختلف آئینی درخواستیں عدالت کے پاس سن دو ہزار تین سے زیر سماعت ہیں۔ جن میں کہا گیا ہے کہ مجلس عمل کے اڑسٹھ اراکین اسمبلی کی دینی مدارس کی جاری کردہ اسناد گریجوئشن کے برابر نہیں ہیں اس لیے انہیں اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جائے۔

پیر کو سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ کے روبرو درخواست گزار مفتی ابرار سلطان کے وکیل ابراہیم ستی کے علاوہ افتخار گیلانی اور مولوی اقبال حیدر پیش ہوئے۔

افتخار گیلانی نے مقدمے کی سماعت اپریل تک ملتوی کرنے کی درخواست کی جس کی ابراہیم ستی ایڈوکیٹ نے مخالفت کی اور کہا کہ نئے انتخابات قریب ہیں اور آئین کےتحت اگر انتخابات کے انعقاد میں چھ ماہ رہ جائیں تو ضمنی انتخاب نہیں ہوسکتے اس لیے سماعت جلد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مقدمے میں تفصیل سے دلائل دینا چاہتےہیں۔

چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد، جسٹس میاں شاکر اللہ اور جسٹس سید سعید الشہد پر مبنی تین رکنی بنچ نے تیسری بار مجلس عمل کے اراکین کی طلبی کے لیے چیئرمین سینٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر کے ذریعے نوٹس بھجوادیے ہیں۔ مقدمہ کی اہمیت کے پیش نظر بارہ مارچ کو سب سے پہلے اس کی سماعت کی جائے گی۔

عدالت نے مولوی اقبال حیدر، اسلم خاکی اور مفتی ابراہیم کی ایک ہی نوعیت کی الگ الگ آئینی درخواستوں کو اکٹھا کردیا تھا اور اب ان کی ایک ساتھ ہی سماعت ہوتی ہے۔

پیر کو ایک درخواست گزار اسلم خاکی عدالت میں موجود نہ تھے جبکہ وفاقی وزیر شیرافگن موجود تھے۔ گزشتہ برس ستمبرمیں سپریم کورٹ نے دوسری مرتبہ ایم ایم اے کے اراکین کو نوٹس جاری کیے تھے لیکن مجلس عمل کے اراکین پیش نہیں ہوئے تھے۔

مذہبی اتحاد کے جن اہم رہنماوں کے انتخاب کو اسناد کی بنیاد پر چیلنج کیا گیا ہے ان میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان، حافظ حسین احمد اور مرحوم شاہ احمد نورانی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
رکن پنجاب اسمبلی نااہل
24 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد