BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2004, 17:34 GMT 22:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسناد جعلی ثابت ہونے پر نااہلی

محمد خان جونیجو
پاکستان میں حکمران جماعت کی اتحادی پاکستان مسلم لیگ پگاڑہ سے تعلق رکھنے والے سانگھڑ سے قومی اسمبلی کے رکن محمد خان جونیجو کی بی اے کی سند جعلی ثابت ہونے پر سپریم کورٹ نے انہیں نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے جس کی سربراھی چیف جسٹس ناظم حسین صدیقی کر رہے تھے، سندھ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو بحال رکھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 236 سانگھڑ سے قومی اسمبلی کے لیے منتخب ھونے والے مسلم لیگ پگاڑہ گروپ کے محمد خان جونیجو کی ڈگری جعلی قرار دیتے ہوئے اس حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم جاری کیا تھا۔

پاکستان کی فوجی حکومت نے سن دو ہزار دو میں یہ قانون پاس کیا تھا کہ کوئی ایسا شخص جس کی تعلیمی قابلیت بی اے سے کم ہو وہ الیکشن میں بطور امیدوار حصہ نہیں لے سکتا۔

اس پابندی کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنچ کیا گیا تھا جس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کا فیصلہ ٹھیک ہے اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس سے ملک کے سیاسی کلچر میں تبدیلی آئے گی اور ملک کو ان پڑھ سیاستدانوں سے نجات مل جائے گی۔

ایڈوکیٹ ایس ایم ظفر نے محمد خان جونیجو کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے موکل کو شروع سے ہی شبہ تھا کہ الیکشن ٹریبونل اس سے انصاف نہیں کرے گا اور اس نے الیکشن کمیشن کو درخواست بھی دی تھی کہ اس کا مقدمہ کسی دوسرے ٹریبونل کو منتقل کر دیا جائے۔ لیکن اس کی بات کو نہیں مانا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر نہیں کیا گیا اور ملک کی اعلی ترین عدالت کو اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دینا چاہیۓ۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار فدا حسین ڈیرونے محمد خان جونیجو کی تعلیمی قابلیت پر اعتراض کیا تھا۔ فدا حسین ڈیرو کے وکیل رشید رضوی نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل نے تمام حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ٹھیک فیصلہ دیا ہے اور جامشورو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی سربراھی میں ایک کمیٹی نے بھی تمام جانچ پڑتال کے بعد یہ رپورٹ دی تھی کہ محمد خان جونیجو کی ڈگری جعلی ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس کے علاوہ ايک آئینی درخواست کو بھی سماعت کے لیے منظور کر رکھا ہے جس میں متحدہ مجلس عمل کے پینسٹھ ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کی تعلیمی قابلیت کو چیلنج کیا گیا ہے ۔

سپریم کورٹ کے پچھلے چیف جسٹس شیخ ریاض احمد نے اس آئینی درخواست کو کافی اہمیت دی تھی اور درخواست فائل ہونے کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر ہی اس کی ابتدائی سماعت بھی کر لی تھی۔ انہوں نے یہ حکم دیا تھا کہ ستمبر دو ہزار تین کے دوسرے ہفتے میں اس کی سماعت کی جائے گی۔

لیکن بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تبدیلی کے بعد اس درخواست کی سماعت نہیں کی گی۔

متحدہ مجلس عمل کے اراکان کے علاوہ بہت سارے دوسرے اراکان اسمبلی نے بھی مدرسوں کی ڈگریاں حاصل کر کے الیکشن لڑا تھا۔

درخواست گذار جو ایک وکیل ہیں ، کا موقف ہے کہ یہ تمام لوگ ملک کے مدرسوں سے تعلیم یا فتہ ہیں اور ان کی ڈگری بی اے کے برابر نہیں ہے۔ پاکستان میں فوجی حکمران نے یہ قانون پاس کیا تھا کہ کوئی ایسا شخص جس کی تعلیمی قابلیت بی اے سے کم ہو گی وہ الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہو گا،

درخواست گذار کے مطابق مدرسوں کی جانب سے جاری کردہ ڈگری صرف" تعلیمی مقاصد" کے لیے تو صیح ہے اس کے علارہ اس کی حثیت اس وقت تک نہیں مانی جائے گی، جب تک مولوی حضرات دنیاوی علوم کے کم از کم دو مضامین جو کہ بی اے لیول کے ھوں ۔ پاس نہ کریں، اس وقت تک وہ بی اے کی ڈگری کے حامل قرار نہیں پا سکتے ،

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد