BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 February, 2007, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت حمایتی ارکان پھر غیرحاضر

 کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے تقریبا ایک گھنٹے تک اجلاس کی کارروائی معطل رہی
کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے تقریبا ایک گھنٹے تک اجلاس کی کارروائی معطل رہی
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعہ کو ایک بار پھر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی ایک گھنٹے تک معطل کردی گئی۔

تین سو بیالیس اراکین کے ایوان میں دو سو کے قریب حکومت کے حامی اراکین ہیں لیکن اکثر حکومت کورم پورا کرنے کے لیے چھیاسی اراکین کی موجودگی بھی یقینی نہیں بنا پاتی۔

حزب مخالف کے راجہ پرویز اشرف اور لیاقت بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ جتنی بار کورم موجودہ اسمبلی کی مدت میں ٹوٹا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

ان کے مطابق حکومتی اراکین کام نہ ہونے کی وجہ سے وزراء اور اپنی قیادت سے ناراض ہیں اس لیے وہ جان بوجھ کر اسمبلی کے اجلاس میں دلچسپی نہیں لیتے۔ جبکہ حکومت ان کے اس دعوے کو رد کرتی ہے۔

جمعہ کو جب اجلاس شروع ہوا تو کچھ دیر بعد پیپلز پارٹی کے اراکین نے سندھ کے ایک صوبائی وزیر اور ان کے محافظوں کے خلاف اپنی ساتھی رکن عذرا فضل پر مبینہ قاتلانہ حملے کی ایف آئی آر درج نہ کیے جانے پر مسلسل تیسرے روز بھی بائیکاٹ کیا۔

اس دوران ایوان میں اراکین کی تعداد کم تھی اور پیپلز پارٹی نے کورم کی نشاندہی کردی اور کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے تقریبا ایک گھنٹے تک اجلاس کی کارروائی معطل رہی۔

اس دوران وزیراعظم شوکت عزیز بھی اپنے پارلیمانی چیمبر میں بیٹھے تھے

اس دوران وزیراعظم شوکت عزیز بھی اپنے پارلیمانی چیمبر میں بیٹھے تھے اور حکومت کوخاصی قانون سازی بھی کرنا تھی۔ چیف وہپ سردار نصراللہ دریشک اور دیگر حکومتی اراکین اپنے حامی اراکین کو فون کرتے رہے۔ آخر کار وہ کورم پورا کرنے میں کامیاب ہو گئے اور ایک گھنٹے کی معطلی کے بعد دوبارہ اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔

حکومت اور حزب مخالف نے پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما عثمان کو مبینہ طور پر ایک جنونی شخص کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے خلاف متفقہ مذمتی قرار داد منظور کی۔ انہوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلا کر ملزم کو سزا دلوائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ملزم موقع سے گرفتار ہوا ہے اور اس نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے اس لیے مزید شواہد کی صرورت نہیں۔

اس دوران مذہبی جماعتوں کی خواتین نے اعتراض کیا کہ دیگر علاقوں میں ہلاک ہونے والی خواتین کے بارے میں بھی قرار داد منظور کی جائے۔ سپیکر کی اجازت کے بعد عائشہ منور نے ایک قرار داد پیش کی کہ باجوڑ، ڈمہ ڈولہ اور وزیرستان سمیت جہاں بھی لوگ اور باالخصوص خواتین قتل ہوئی ہیں یہ ایوان اس کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے باجوڑ اور وزیرستان میں قتل ہونے والوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

قبل ازیں حکومتی رکن مہناز رفیع اور دیگر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مردان اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں سے انہیں خط موصول ہورہے ہیں کہ سخت گیر اسلامی سوچ رکھنے والے نامعلوم عناصر بعض تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کی فراہمی بند کریں ورنہ وہ انہیں نقصان پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس کا نوٹس لے اور ضروری اقدامات کرے۔

بعد میں موجودہ قومی اسمبلی کے پانچویں اور آخری سال کا پہلا سیشن غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے سے قبل ایوان کو چلانے کے لیے نئے قواعد و ضوابط کی منظوری بھی دی گئی۔ جبکہ حکومت نے کچھ آرڈیننس ایوان میں پیش کیے اور قانون سازی بھی کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد