تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں جمعہ کو حزب مخالف نے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد ایوان میں پپیش کردی ہے جس پر سپیکر نے ووٹنگ انتیس اگست کو کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حزب مخالف کی جانب سے قاضی حسین احمد نے قرار داد پیش کرنے کی اجازت کے بارے میں تحریک پیش کی اور اس پر مزید کارروائی کے لیئے قواعد کے مطابق انہتر اراکین کی مطلوبہ حمایت کے لیئے جب سپیکر نے ووٹنگ کرائی تو حزب مخالف کے ایک سو سے زائد اراکین نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ سپیکر کی منظوری کے بعد وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد اعتزاز احسن نے پیش کی۔ قرارداد کے متن پر حکومت اور حزب مخالف کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ سپیکر اور وزیر قانون اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کا منظور کردہ متن پڑھا جائے جبکہ اعتزاز احسن نے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا قرار داد کو وہی متن پڑہیں گے جو حزب مخالف نے پیش کیا ہے۔ حزب مخالف کی قرارداد کے متن میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کیئے جانے کی وجوہات اور اسباب بتاتے ہوئے وزیراعظم پر بدعنوانی کے جو الزامات لگائے تھے وہ پڑھ کر ایوان کی کارروائی کا حصہ بنانا چاہتے تھے۔ کافی دیر بحث و تکرار کے بعد فریقین میں طئے پایا کہ حزب مخالف کی پیش کردہ قرارداد کا متن ایوان کی کارروائی میں شامل کیا جائے گا لیکن وہ ایوان میں پڑھی نہیں جائے گی۔ واضح رہے کہ سٹیل ملز کی نجکاری، پورٹ قاسم کے قریب پلاٹ الاٹ کرنے اور دیگر معاملات کا تذکرہ کرتے ہوئے حزب مخالف نے تیس مبینہ بدعنوانی کے واقعات کے بارے میں پانچ سو صفحات پر مبنی دستاویزات بھی پیش کیئے تھے۔ سپیکر نے قرارداد پر ووٹنگ تو منگل انتیس اگست کو کرانے کا اعلان کیا ہے لیکن اجلاس کی کارروائی پیر کی شام تک ملتوی کردی ہے۔ حزب اختلاف کی عدم اعتماد کی تحریک پر ایک سو چھتیس ارکان کے دستخط تھے جن میں مسلم لیگ کے رہنما جاوید ہاشمی بھی شامل ہیں۔ | اسی بارے میں عدم اعتماد: ووٹنگ 29 اگست کو 24 August, 2006 | پاکستان وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد09 August, 2006 | پاکستان ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد13 March, 2006 | پاکستان شوکت عزیز: اگست کا ہدف29 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||