شوکت عزیز: اگست کا ہدف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کے دو اتحاد، اے آرڈی اور ایم ایم اے وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر باضابطہ طور پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس سلسلے میں تاریخ کا اعلان دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔ ای کراچی میں جمعہ کو مخدوم ہاؤس میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےقاضی حسین احمد کے ہمراہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے رہنما مخدوم امین فہیم سے ملاقات کی، جس میں عدم اعتماد کی تحریک اور ایم ایم اے کی عوام رابطہ مہم پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس کے بعد مخدوم امین فہیم، مولانا فضل الرحمان اور قاضی حسین احمد نے پریس بریفنگ میں عدم اعتماد کی تحریک پر اتفاق کا اظہار کیا۔ فضل الرحمان نے بتایا کہ اے آرڈی نے گزشتہ روز رابطے کا آغاز کیا تھا، اور مسلم لیگ کے رہنما اقبال جھگڑا نے قاضی حسین سے اور ان سے ملاقات کی جس کے بعد مخدورم امین فہیم کا رابطہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتمادکی تحریک لانے کی تجویز پر اصولی طور پر اتفاق ہوا ہے۔ مخدوم ایم فہیم سے تحریک کے طریقۂ کار اور حکمت عملی واضح کرنے پر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطہ کیا جائے گا ہماری تجویز ہے کہ اسمبلیوں کے باہر ہم سب ملکر کر مشترکہ اجتماعات کریں، اسمبلی کے اندر بھی ہمار اقدام متحدہ اور مشترکہ ہونے چاہیں۔ مخدوم امین فہیم نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ طور اور اتفاق رائے کے ساتھ عدم اعتماد کی تحریک کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ ان کے مطابق اکتیس تاریخ ہماری ڈیڈ لائین ہے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا اگست کوگذرنے نہیں دینگے۔ قاضی حسین احمد کہنا تھا کہ ہم رابطہ مہم کی تحریک شروع کر چکےہیں جمعہ حیدرآباد میں جلسہ تھا ، اب کوئٹہ جا رہے ہیں جبکہ کراچی میں بھی جلسہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ایم اے کی جانب سے چودہ اگست کو یوم نجات منایا جائے گا مینار پاکستان لاہور میں جلسہ ہوگا۔ جب کہ چھ ستمبر کویوم دفاع کے موقعے پر راولپنڈی میں جلسہ کیاجائے گا۔ مخدوم امین فہیم نے ایم ایم اے کی رابطہ مہم کی حمایت کرنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں جمہوریت پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ چودہ اگست جمہوری دن ہے اس پر سارے پاکستانیوں کا حق ہے اس پر ہم سب متفق ہیں۔ جب اپوزیشن کے رہنماؤں سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا انہیں کسی قوت کی آشیرواد حاصل ہے تو قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ وہ اللہ کو گواہ بناکر بتاتے ہیں کہ انہوں نے کسی سازش کے تحت کبھی تحریک نہیں چلائی جو بھی کیا ہے وہ ضمیر کے مطابق اپنا فرض پورا کرنے کےلیئے کیا ہے۔
مخدوم ایم فہیم کا کہنا تھا کہ ہم جو کر رہے ہیں وہ کھلم کھلا کر رہے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اختلاف میں نمائش جائزنہیں ہے ہمارے حکومت سے نظریاتی اختلافات ہیں۔ ایم کیو ایم ے بارے میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی اپنی صفوں کا معاملا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ انہوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے نہ ہی ہم ان سے رابطہ کریں گے۔ | اسی بارے میں اے آر ڈی اور ایم ایم اے میں تعاون 12 June, 2006 | پاکستان ایم ایم اے: اسمبلی کا بائیکاٹ29 May, 2006 | پاکستان اے آر ڈی میں ایم ایم اے اور دیگر30 April, 2006 | پاکستان ’جرنیلوں کا مشورہ غیر اہم ہے‘ 25 July, 2006 | پاکستان ’فوجی سربراہ کے عہدے پر سیاسی رنگ چڑھ گیا‘25 July, 2006 | پاکستان ’مشرف ملک توڑنے کے راستے پر‘: احمد فراز23 July, 2006 | پاکستان ’مشرف وردی اتار دیں‘23 July, 2006 | پاکستان دہشتگردوں کی فتح ہوئی ہے: مشرف20 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||