BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 June, 2006, 02:25 GMT 07:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے مشرف ملاقات،احتجاج ختم

بلوچستان اسمبلی
متحدہ مجلس عمل اسمبلی کے مکمل سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
متحدہ مجلس عمل نے اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف اور حکمران مسلم لیگ کے قائدین سے ملاقاتوں کے بعد بلوچستان اسمبلی کے سیشن کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بلوچستان کے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے اسلام آباد سے بی بی سی کو بتایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے ان کے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں جس کے بعد انھوں نے بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان سے جب پوچھا کہ آپ کے مطالبات کیا تھے تو انھوں نے کہا کہ گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج کے حوالےسے صوبے کا حصہ زیادہ بنتا ہے لیکن مرکز بلوچستان کو اس کا حق نہیں دے رہا تھا۔

اب مرکزی حکومت نے ان کا مطالبے تسلیم کرتے ہوئے حصہ بڑھا دیا ہے جس سے تقریباً بلوچستا ن کے حصے میں پانچ ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔

مرکزی حکومت نے لیویز یعنی علاقائی پولیس کو ریگولر پولیس میں ضم کرکے بی ایریاز ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کچھ اضلاع میں لیویز کو پولیس میں ضم بھی کر دیا گیا ہے۔

مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ اب مزید اضلاع کی لیویز فورس کو پولیس فورس میں ضم نہیں کیا جائے گا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں قوم پرست جماعتیں بھی اس انضمام کے خلاف تھیں۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس انتیس مئی سے شروع ہوا ہے لیکن مجلس عمل کے اراکین اس میں شرکت نہیں کر رہے تھے جس پر کئی مرتبہ کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد