مجلس: نئی اراکین کی حلف برداری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں حکمراں اتحاد متحدہ مجلس عمل پیر کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس منعقد کرانے اور اپنے دو نئے اراکین کو حلف دلوانے میں کامیاب رہی۔ اس سے قبل اسمبلی اجلاس طلب کرنے پر صوبائی حکومت اور گورنر کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی تھی۔ متحدہ مجلس عمل نے پیر کی صبح چالیس اراکین پر مشتمل اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی درخواست سپیکر بخت جہاں خان کو پیش کی جس پر سپیکر نے فورًا اجلاس طلب کر لیا تاہم اجلاس مقررہ وقت سے بھی بیس منٹ قبل شروع ہوا۔ ایم ایم اے کی دو نئی اراکین اسمبلی سائرہ بانو اور فوزیہ ناز نے حلف اٹھایا۔ بعد میں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیر احمد بلور اور صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم کے درمیان سینٹ کے انتخابات میں اراکین کے کردار پر تلخ کلامی بھی ہوئی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی جماعت کے اراکین پر وفاداریاں تبدیل کرنے کے الزامات لگائے۔ یہ تکرار ابھی جاری تھی کہ سپیکر نے اجلاس اگلے روز تک لیے ملتوی کر دیا۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلٰی اکرم خان درانی نے اسے جمہوریت کی کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس منعقد کروا کے سپیکر نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس سے قبل صوبائی حکومت اور گورنر کے درمیان اس وقت تناؤ پیدا ہوا جب گورنر خلیل الرحمان نے اسمبلی طلب کیئے جانے کی درخواست چند اعتراضات کے ساتھ واپس لوٹا دی تھی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اسمبلی اجلاس کے بارے میں یہ ساری رسہ کشی اور جلد بازی کل برطرف کیئے جانے والے اراکین کے مقدمے کی عدالت میں سماعت کی وجہ سہے ہے۔ صوبائی حکومت کو خدشہ تھا کہ کہیں عدالت ان ارکان کو حلف لینے سے روک نہ دے۔ | اسی بارے میں قاضی حسین احمد پھر نظر بند 24 February, 2006 | پاکستان ’دنیا کے سامنے پول کھل گیا‘05 March, 2006 | پاکستان سرحد اسمبلی، شو آف ہینڈ پر قرارداد11 March, 2006 | پاکستان تیسری اپوزیشن رکن منحرف27 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||