BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 March, 2006, 12:05 GMT 17:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد اسمبلی، شو آف ہینڈ پر قرارداد

سرحد اسمبلی
مسلم لیگ (ق) پر کئی لوگ پیسے کے ذریعے ووٹر خریدنے کا الزام لگاتے ہیں
صوبہ سرحد میں ایوان بالا یا سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں پیسے کے بےدریغ استعمال کے الزامات سامنے آنے کے بعد سنیچر کو صوبائی اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد میں آئندہ یہ انتخاب شو آف ہینڈ یا ہاتھ اٹھا کر ووٹ دینے کے طریقہ کار کے تحت کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

صوبہ سرحد میں حکمراں متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے درمیان سینیٹ کے انتخابات کے لیئے اتحاد کے باوجود توقعات سے کم نشستیں ملنے پر ایک بحث چل نکلی تھی کہ منحرف اراکین اسمبلی نے پیسے یا دباؤ کے تحت آکر ووٹ کسی اور کو دیا۔

ان انتخابات کے لئے مسلم لیگ (ق) نے سرحد اسمبلی میں اراکین کی کم تعداد ہونے کے باوجود زیادہ امیدوار کھڑے کئے۔ اس جماعت پر اس وجہ سے کئی لوگ پیسے کے ذریعے ووٹر خریدنے کا الزام لگاتے ہیں۔

تاہم مسلم لیگ (ق) کے صوبائی صدر امیر مقام اس کی تردید کرتے ہیں۔ ’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔ ہماری پارٹی کے اراکین ہیں اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ہمارا الائنس ہے۔ دیگر اراکین نے بھی ہمیں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے‘۔

امیر مقام نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ دراصل یہ تو ایم ایم اے کے حکومت ترقیاتی منصوبوں کی لالچ دے کر ووٹروں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایم ایم اے اور اے این پی اس بات کے قائل نظر آتے ہیں کہ انتخابات میں کافی پیسہ چلا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر بشیر بلور نے ہفتے کے روز سرحد اسمبلی میں ایک قرار داد پیش کی جس میں ایوان نے متفقہ طور پر مستقبل سینٹ انتخابات شو آف ہینڈ یا ہاتھ اٹھا کر ووٹ دینے کے طریقے کو رائج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایوان نے قرار داد منظور کی جس کا بظاہر مقصد اراکین کی خرید وفروخت کا تدارک کرنا ہے۔

بشیر بلور نے بتایا کہ ایم ایم اے، اے این پی اور پارلیمینٹرین کو ملا کر ان کے بانوے ترانوے ووٹ بنتے ہیں لیکن ہمیں ملے بہت کم ہیں۔ دوسری جانب ان کا کہنا ہے کہ دیگر جماعتوں کے صرف ستائیس اراکین بنتے ہیں لیکن انہیں ملے پچاس ووٹ ہیں۔ ’تو یقینا ہمارے اتحاد کے لوگوں نے انہیں ووٹ دیا‘۔

سرحد حکومت بھی سینیٹ کے انتخاب کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی حامی ہے۔ وزیر اعلی سرحد اکرم خان درانی کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی وفاقی حکومت سے اس نظام انتخاب کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ’اگر ناظمین کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے ہو سکتا ہے تو سینٹ کا کیوں نہیں‘۔

صوبہ سرحد میں سینیٹ کے انتخابات میں اکثر ووٹوں کی خریدو فروخت کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس مرتبہ بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی۔

مبصرین کے خیال میں ماضی کو دیکھتے ہوئے سرحد اسمبلی کی قرار داد سے شاید ہی اس طریقہ کار میں کوئی تبدیلی آئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد