خیمہ بستیاں: سرحد حکومت کی آمادگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نےصوبے میں زلزلے سے متاثرہ افراد کے لیے قائم خیمہ بستیوں کا انتظام سنبھالنے کے بارے میں اپنی آمادگی سے وفاقی حکومت کو مطلع کر دیا ہے۔ اب تک ان خیمہ بستیوں کا انتظام پاک فوج کے ہاتھ میں ہے۔ یہ بات صوبائی دارالحکومت پشاور میں وزیرِاعلی سرحد کی صدارت میں ہونے والے صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس میں بتائی گئی۔ تاہم اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت یہ انتظام کب تک سنبھال لے گی۔ تاہم سرحد حکومت نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ فوج کی انجینئرنگ کور کو ناقابل رسائی متاثرہ علاقوں میں اپنی خدمات جاری رکھے۔ اس وقت صوبہ سرحد میں متاثرہ پانچ اضلاع میں بائیس خیمہ بستیاں قائم ہیں جن میں اٹھائیس ہزار سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ چار سو اٹھائیس دیگر خیمہ بستیاں اس کے علاوہ ہیں جو مختلف رفاہی اور غیرسرکاری تنظیمیں چلا رہی ہیں۔ ان خیمہ بستیوں میں رہنے والوں کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار بتائی گئی ہے۔ صوبائی ریلیف کمشنر نے کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہر کیمپ کے لیے الگ انتظامی کمیٹی ہوگی جس کی سربراہی گریڈ سترہ کا افسر کرے گا۔ فوج اس وقت مانسہرہ، بٹگرام، گڑھی حبیب اللہ، بالاکوٹ اور بٹل میں قائم خیمہ بستیوں کا انتظام چلا رہی ہے اور صوبائی حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ یہ خیمہ بستیاں تیس مارچ سن دو ہزار چھ تک ختم کر دی جائیں گی۔ | اسی بارے میں ’تمام علاقوں تک امداد نہیں پہنچی‘12 December, 2005 | پاکستان ’ کھانے کی قطاروں میں دن گزر جاتا ہے‘08 December, 2005 | پاکستان زلزلہ:دوسرا بڑا چیلنج درپیش07 December, 2005 | پاکستان لوگ عارضی مکان کیوں نہیں بنا رہے؟05 December, 2005 | پاکستان مرے کو مارے شاہ مدار۔۔05 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||