عدم اعتماد: ووٹنگ 29 اگست کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ ان کے خلاف حزب مخالف کی پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ انتیس اگست کو ہوگی۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز پارلیمان میں واقع اپنے چیمبر میں سابق وزراءاعظم میر ظفراللہ جمالی اور چودھری شجاعت حسین سمیت بعض وفاقی وزراء کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزب مخالف کی عدم اعتماد کی تحریک ان کی حکومت پر انتیس اگست کو اعتماد کی تحریک ثابت ہوگی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس ایک اجلاس ہوا جس میں حکومت اور حزب مخالف کے نمائندوں نے طے کیا ہے کہ تحریک پر ووٹنگ انتیس اگست کو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جانب سے پیش کردہ پانچ سو صفحات پر مشتمل دستاویزات میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نیوز کانفرنس کے موقع پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ حزب مخالف کے مطالبے پر عمل کرتے ہوئے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کے وقت جو طریقہ کار اپنایا گیا تھا اب بھی اس پر عمل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیر بھٹو کے وقت حزب مخالف کے چار اراکین نے بحث میں حصہ لیا تھا اور بعد میں انہوں نے اس کا جواب دیا تھا اور ووٹنگ ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اب بھی ویسے ہی ہوگا۔ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے علیحدہ ایک نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ کوئی بات طئے نہیں ہوئی ہے اور اب اربوں روپے کی بدعنوانی کے معاملات ہیں جس پر وہ تمام اراکین بات کریں گے جنہوں نے دستخط کیئے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے تمام اراکین کو بولنے کی اجازت نہ دی تو حزب مخالف کیا کرے گی یہ انتیس اگست کو پتہ چل جائے گا۔ | اسی بارے میں وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد09 August, 2006 | پاکستان وزیر اعظم: تحریک عدم اعتماد پیش23 August, 2006 | پاکستان اسمبلی، شراب، ’جُغادری لکھاری‘09 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||