BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 August, 2006, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیراعظم کےخلاف تحریک عدم اعتماد

مخدوم امین فہیم اور فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمٰن میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے والے ہیں جس میں تحریک عدم اعتماد اور مل کر جدوجہد کے بارے میں غور ہوگا
پاکستان میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ تئیس اگست کو وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کریں گے۔

یہ اعلان مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ میں کیا گیا جس میں راجہ ظفرالحق، محمود خان اچکزئی، لیاقت بلوچ، حافظ حسین احمد، آغا شاہد بگٹی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ تحریک عدم اعتماد تئیس اگست کو قومی اسمبلی میں جمع کرائی جائے گی اور تحریک کا متن تیار کرنے کے لیئے محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن سمیت مختلف جماعتوں کے اراکین شامل ہوں گے۔

حزب مخالف کے رہنماؤ ں نے بتایا کہ متحدہ مجلس عمل کی جانب سے چودہ اگست کو لاہور میں مینار پاکستان پر منعقد کیے جانے والے جلسے میں تمام جماعتوں کے نمائندے بھرپور شرکت کریں گے۔

بڑا قدم
 حزب مخالف کی تمام جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ حکومت کے خلاف ایک بڑے اتحاد کی طرف ایک اہم قدم ہے
حافظ حسین احمد
مخدوم امین فہیم نے ایک سوال پر کہا کہ حکومتی اراکین کی جانب سے حزب مخالف کی تحریک کی حمایت ایک خفیہ معاملہ ہے اور اس بارے میں وہ تفصیل نہیں بتانا چاہتے کہ کتنے حکومتی اراکین ان کے ساتھ ہیں۔

تاہم صدر کے مواخدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ فی الوقت وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر رہے ہیں اور صدر کے بارے میں بعد میں سوچیں گے۔

حافظ حسین احمد نے اس موقع پر کہا کہ حزب مخالف کی تمام جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ حکومت کے خلاف ایک بڑے اتحاد کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

اقبال ظفر جھگڑا نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن جمعرات کے روز لندن میں میاں نواز شریف سے ملاقات کرنے والے ہیں جس میں تحریک عدم اعتماد اور مستقبل میں مل کر جدوجہد کے بارے میں غور ہوگا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے تین سو بیالیس اراکین ہیں جس میں حکومتی اتحاد میں ایک سو پچانوے سے زائد اراکین شامل ہیں۔ جبکہ حزب مخالف کی تمام جماعتوں کے اراکین کی تعداد ایک سو پینتالیس کے قریب بنتی ہے۔

حزب مخالف نے بائیس فروری سن دو ہزار چار کو جب سپیکر چودھری امیر حسین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی تو اس وقت حکومت نے اپنے اراکین کو ووٹ دینے نہیں دیا اور حزب مخالف سے کہا کہ وہ ووٹ دیں جس پر انہوں نے ہنگامہ کرکے بائیکاٹ کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ستائیس اگست سن دو ہزار چار کو جب موجودہ وزیراعظم شوکت عزیز قائد ایوان منتخب ہوئے تھے تو انہوں نے ایک سو اکانوے ووٹ حاصل کیے تھے۔

اسی بارے میں
ایم کیو ایم کی اہمیت
03 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد