BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 August, 2006, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیر اعظم: تحریک عدم اعتماد پیش

قومی اسمبلی
حزب مخالف کے126 ارکان کی طرف سے وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔

یہ تحریک بدھ کی سہ پہر جمع کرائی گئی۔

تحریک جمع کرانے سے پہلے اپوزیشن کے اختلافات
وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد قومی اسمبلی میں جمع کرانے سے چند گھنٹے قبل عین وقت پر حزب مخالف کی جماعتوں میں اختلافات پیدا ہوگئے۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بینظیر بھٹو کی جانب سے حدود قوانین میں ترمیم سمیت حکومت کے اچھے کاموں کی حمایت کرنے کے بیان پر سخت اعتراض اٹھایا ہے۔

ان کا مطالبہ ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کے متن میں جو جواز پیش کیے گئے ہیں ان میں حکومت پر قرآن اور سنت کے خلاف قانون سازی کرنے کا نکتہ بھی شامل کیا جائے۔

 مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے بینظیر بھٹو کی جانب سے حدود قوانین میں ترمیم سمیت حکومت کے اچھے کاموں کی حمایت کرنے کے بیان پر سخت اعتراض اٹھایا ہے۔

اچانک پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد متحدہ مجلس عمل اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ کے رہنماوں کے پہلے علیحدہ علیحدہ اجلاس ہوئے اور بعد میں مل بیٹھے اور اپنے اختلافات ختم کرنے اور متفقہ طور پر تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا اعلان کیا۔

قبل ازیں مولانا فضل الرحمٰن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بینظیر بھٹو کے حالیہ بیانات پر تحفظات ہیں اور انہوں نے پیپلز پارٹی سے یہ معاملہ اٹھایا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے مجلس عمل کے تحفظات دور کردیے ہیں اور اب وہ متفق ہیں۔

دونوں بڑے اتحادوں کے رہنماوں میں اختلافات کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کرنے میں بھی کچھ تاخیر ہوئی۔

تین سو بیالیس اراکین پر مشتمل قومی اسمبلی میں حکومت کے حامی اراکین کی تعداد دو سو ہے اور بظاہر لگ رہا ہے کہ حزب مخالف کی تحریک ناکام ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ تین روز قبل جب حکومت نے حدود قوانین میں ترمیم کا بل پیش کیا تھا تو اس پر بھی حزب مخالف کی جماعتوں میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے اراکین نے ہنگامہ کردیا تھا اور حکومت پر خلافِ اسلام قانون سازی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومت کے بل کی حمایت کی تھی۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد سے محض تین روز قبل متنازعہ حدود قوانین میں ترمیم کا بل پیش کرنے کا بظاہر مقصد بھی حزب مخالف میں اختلاف پیدا کرنا ہے۔

ان کے مطابق اختلافات کے بعد ایک بار پھر حزب مخالف کے اتحادوں میں اتفاق ہوگیا ہے لیکن پھر بھی ایک حد تک حکومت کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے۔

اسی بارے میں
یکم نومبر 1989
01 November, 2004 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد