BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 February, 2007, 09:01 GMT 14:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے: تیرہ فروری تک بائیکاٹ

تحفظ نسواں بل پر مولانا فضل الرحمن اسمبلیوں سے مستعفی ہونے پر راضی نہیں تھے
چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہی اجلاس نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے ارکان قومی اسمبلی تیرہ فروری تک قومی اسمبلی میں نہیں جائیں گے۔

بدھ کو لاہور میں شیعہ مدرسہ جامعۃ المنتظر میں مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اتحاد کے صدر قاضی حسین احمد نے کہا کہ تیرہ فروری تک مجلس عمل کا کوئی رکن اسمبلی میں نہیں جائے گا۔

گزشتہ سال متحدہ مجلس عمل کی جنرل کونسل نے اعلان کیا تھا کہ اگر حکومت نے حدود قوانین میں پارلیمان سے ترمیمی بل منظور کروایا تو اس کے تمام ارکان اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ ’ہم نے یہ معاملہ جنرل کونسل کی طرف ریفر کیا ہے۔ جب چھ اور سات دسمبر کو اختلاف پیدا ہوا تو ہم نے اختلاف سے بچنے کے لیے کہا کہ ہم اسے دوبارہ جنرل کونسل کو بھیج دیتے ہیں۔’

قاضی حسین احمد نے کہا کہ تیرہ فروری کو جنرل کونسل میں جو فیصلہ ہوگا اس کی پابندی تمام رکن جماعتوں پر لازم ہوگی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آج مجلس عمل کا سربراہی اجلاس اختلافات حل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا تو انہوں نے کہا ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ آج اختلافات ختم نہیں ہوئے۔‘

تحفظ نسواں قانون منظور کے بعد جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا تھا

قاضی حسین احمد نے نے کہا ’ہم نے آپس میں ایک انڈر سٹینڈنگ بنا لی ہے جب تیرہ فروری کے اجلاس میں اسے دستوری شکل دیں گے۔‘ تاہم انہوں نے اس مفاہمت کی تفصیل نہیں بتائی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ تیرہ فروری تک اسمبلی کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیوں کیا گیا ہے قاضی حسین احمد نے کہا کہ ’چونکہ رسمی فیصلہ نہیں ہوا اس لیے اس وقت تک پارلیمان میں کوئی نہیں جاسکتا۔‘

قاضی حسین احمد نے کہا کہ مجلس عمل کا سربراہی اجلاس ’بہت اچھی فضا میں ہوا۔ سب نے ایک دوسرے کا خیال رکھا۔ مولانا فصل الرحمن بیمار تھے اس لیے ہم نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے کسی قسم کا تناؤ پیدا ہو۔‘

گزشتہ سال حدود قوانین میں ترمیم کا تحفظ نسواں قانون منظور ہونے کے بعد مجلس عمل کی دو بڑی رکن جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام میں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملہ پر اختلاف رائے پیدا ہوگیا تھا۔

جماعت اسلامی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے حق میں رہی ہے جبکہ جمعیت علمائے اسلام اس کے خلاف ہے۔

مجلس عمل کی جنرل کونسل تمام پارٹیوں کے چھ چھ ارکان پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد