BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 May, 2007, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ارتداد بل منظور، اقلیتی بل مسترد

فائل فوٹو: مسیحی برادری نے توہین رسالت سے متعلق قانون پر احتجاج کیا ہے
قومی اسمبلی نےاسلام سے منحرف ہونے والے کو سزائے موت دینے کا بل منظور کرلیا لیکن پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی سزا کے قانون میں دیگر مذاہب کے پیغمبروں کو شامل کرنے کے بل کو مسترد کردیا ہے۔

منگل ایوان میں نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے اور اس موقع پر جب ایم پی بھنڈارا نے ضابطہ فوجداری میں توہین رسالت سے متعلق شقوں میں ترمیم کا بل پیش کیا تو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی اور حزب مخالف کی مذہبی جماعتوں کے اراکین نے اس کی شدید مخالفت کی۔

ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے ایم پی بھنڈارا پر کڑی نکتہ چینی کی اور الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کی دل آزاری کرنا چاہتے ہیں۔

ایم پی بھنڈارا نے کہا کہ وہ عیسائیت اور بدھ مت سمیت دیگر مذاہب کے پیغمبروں کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے وہی سزا تجویز کرنا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کے پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے پہلے سے موجود ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اقلیتوں کے لیے مسلمانوں کے ساتھ برابری کا حق مانگ رہے ہیں۔

اس پر متحدہ مجلس عمل کے اراکین اسمبلی نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ وہ توہین رسالت کے قانون میں کسی طور بھی ترمیم نہیں ہونے دیں گے۔

 ایم پی بھنڈارا نے کہا کہ وہ عیسائیت اور بدھ مت سمیت دیگر مذاہب کے پیغمبروں کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے وہی سزا تجویز کرنا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کے پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے پہلے سے موجود ہے

حکومت اور مذہبی جماعتوں کے اراکین کی مخالفت کے بعد سپیکر نے مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ایم پی بھنڈارا کا بل مسترد کردیا۔

جبکہ مولانا فضل ارحمٰن اور قاضی حسین احمد سمیت مذہبی جماعتوں کے اکتیس اراکین اسمبلی کی جانب سے منحرفِ اسلام یعنی مرتد کو سزائے موت دینے کے بل کی حکومت نے مخالفت نہیں کی اور سپیکر نے یہ بل غور کے لیے ایوان میں قانون و انصاف سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔

مرتد کو سزا دینے کے مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ اس کا اطلاق جسمانی طور پر بالغ یا اٹھارہ برس کے مرد اور سولہ برس کی عورت سے شروع ہوگا۔

اس قانون میں توبہ کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے اور اگر پہلی بار ارتداد کرنے والا شخص توبہ کرلے تو عدالت اُسے معاف کرسکتی ہے۔ لیکن دوسری یا تیسری بار اگر وہ ارتکاب جرم کرے گا تو ملزم کو توبہ کے باوجود بھی دو برس تک قید جبکہ چوتھی بار ترک اسلام کرنے والے کو موت کی سزا ملے گی اور اس صورت میں توبہ قبول نہیں ہوگی۔

مجوزہ قانون میں توبہ نہ کرنے والے کو مرد ہونے کی صورت میں سزائے موت کی تجویز دی گئی ہے جبکہ عورت تائب ہونے تک قید میں رہے گی ۔

اسی بارے میں
گرجاگھر نذرآتش، گرفتاریاں
12 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد