BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 08:52 GMT 13:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’توہینِ رسالت‘ پر سزائے موت

لاہور ہائی کورٹ (فائل فوٹو)
تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے سی کا تعلق پیغمبرِ اسلام کی توہین سے ہے جس کی سزا موت ہے (فائل فوٹو)
پتوکی کے ایک ایڈیشنل ضلعی و سیشن جج نے قصور کے ایک پینتالیس سالہ شخص کو توہینِ مذہب، توہینِ قران اور توہینِ رسالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے دس سال قید، عمر قید، سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

سزا پانے والے شخص پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے گھر میں کلمہ کے الفاظ تبدیل کرکے لکھے ہوئے تھے۔

تین مارچ سنہ دو ہزار چھ کو قصور میں ایک گاؤں خالصہ کے رہائشی پینتالیس سالہ محنت کش عبدالحمید پر تعزیراتِ پاکستان میں توہینِ مذہب کی دفعات دو سو پچانوے اے اور بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ توہین مذہب کے اس مقدمہ کی سماعت اس کی حساس نوعیت کی بنا پر قصور کی بجائے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں کی گئی۔

گاؤں کی مسجد کے امام قاری غلام مصطفے نے سزا پانے والے شخص عبدالحمید پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اپنے گھر میں خانہ کعبہ کا ماڈل رکھا ہوا ہے جس پر ایک چادر ڈالی ہوئی ہے، اس پر اسلام کے کلمہ کے الفاظ تبدیل کرکے اس طرح لکھے گئے ہیں کہ اس میں پیغمبرِ اسلام کے نام کی بجائے اس کا اپنا نام آتا ہے۔

استغاثہ نے ملزم کے خلاف تین گواہ پیش کیے۔ وکیل صفائی چودھری پرویز اسلم نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کے ایک گواہ رانا شمعون کا ملزم سے چھ کنال اراضی کی ملکیت پر جھگڑا چل رہا تھا اور اس مقدمہ کے درج ہونے کے بعد انہوں نے ملزم کے مکان سے اس کی بیوی اور پانچ بچوں کو نکال کر اس پر اور متنازعہ زمین پر قبضہ کرلیا۔

وکیل صفائی نے عدالت سے کہا کہ جو چادر ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ہے وہ ملزم کی ملکیت نہیں ہے اور نہ اس پر کوئی عبارت اس کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہے بلکہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں اور وہ الفاظ بھی درود ابراہیمی کا حصہ ہیں۔

توہینِ مذہب کے الزامات
 گاؤں کی مسجد کے امام قاری غلام مصطفے نے سزا پانے والے شخص عبدالحمید پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اپنے گھر میں خانہ کعبہ کا ماڈل رکھا ہوا ہے جس پر ایک چادر ڈالی ہوئی ہے اور اس پر اسلام کے کلمہ کے الفاظ تبدیل کرکے اس طرح لکھے گئے ہیں اس میں پیغمبرِ اسلام کے نام کی بجائے اس کا اپنا نام آتا ہے

وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اپنے چالان میں توہین مذہب کی دفعہ دو سو پچانوے کے تحت الزام ثابت کیا ہے جبکہ دو سو پچانوے سی کے تحت الزام ثابت نہیں کیا۔

تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے اے کا تعلق توہینِ مذہب سے ہے جس کی سزا دس سال قید ہے اور جرمانہ ہے۔ دو سو پچانوے سی کا تعلق پیغمبرِ اسلام کی توہین سے ہے جس کی سزا موت ہے۔

تاہم عدالت کے جج خالد بشیر نے ملزم کو دونوں دفعات کے ساتھ ساتھ توہینِ قران سے متعلق دفعہ دو سو پچانوے بی کے تحت بھی عمر قید اور جرمانہ کی سزا بھی سنائی ہے۔

وکیل صفائی نے عدالت سے کہا تھا کہ یہ مقدمہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی شکایت پر ہی درج کیا جاسکتا ہے جبکہ اس مقدمہ میں ایسا نہیں ہوا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان الزامات کے تحت کسی مقدمہ کی تفتیش قانون کے مطابق سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سطح کا افسر ہی کرسکتا ہے جبکہ اس مقدمہ کی تفتیش ایک سب انسپکٹر نے کی۔

تفتیس کرنے والے سب انسپکٹر محمد منشا نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے تفتیش ایک سچے مسلمان کے طور پر کی ہے۔ وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ اس مقدمہ کے دروان میں انہیں مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہیں کہ وہ یہ مقدمہ نہ لڑیں۔

سیمویل مسیحمیرا مجرم کون؟
توہین رسالت کا ملزم سیمویل چل بسا۔۔
اسی بارے میں
توہین رسالت کا ملزم قتل
16 June, 2006 | پاکستان
توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ
03 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد