’توہینِ رسالت‘ پر سزائے موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پتوکی کے ایک ایڈیشنل ضلعی و سیشن جج نے قصور کے ایک پینتالیس سالہ شخص کو توہینِ مذہب، توہینِ قران اور توہینِ رسالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے دس سال قید، عمر قید، سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ سزا پانے والے شخص پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے گھر میں کلمہ کے الفاظ تبدیل کرکے لکھے ہوئے تھے۔ تین مارچ سنہ دو ہزار چھ کو قصور میں ایک گاؤں خالصہ کے رہائشی پینتالیس سالہ محنت کش عبدالحمید پر تعزیراتِ پاکستان میں توہینِ مذہب کی دفعات دو سو پچانوے اے اور بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ توہین مذہب کے اس مقدمہ کی سماعت اس کی حساس نوعیت کی بنا پر قصور کی بجائے کوٹ لکھپت جیل لاہور میں کی گئی۔ گاؤں کی مسجد کے امام قاری غلام مصطفے نے سزا پانے والے شخص عبدالحمید پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اپنے گھر میں خانہ کعبہ کا ماڈل رکھا ہوا ہے جس پر ایک چادر ڈالی ہوئی ہے، اس پر اسلام کے کلمہ کے الفاظ تبدیل کرکے اس طرح لکھے گئے ہیں کہ اس میں پیغمبرِ اسلام کے نام کی بجائے اس کا اپنا نام آتا ہے۔ استغاثہ نے ملزم کے خلاف تین گواہ پیش کیے۔ وکیل صفائی چودھری پرویز اسلم نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ کے ایک گواہ رانا شمعون کا ملزم سے چھ کنال اراضی کی ملکیت پر جھگڑا چل رہا تھا اور اس مقدمہ کے درج ہونے کے بعد انہوں نے ملزم کے مکان سے اس کی بیوی اور پانچ بچوں کو نکال کر اس پر اور متنازعہ زمین پر قبضہ کرلیا۔ وکیل صفائی نے عدالت سے کہا کہ جو چادر ثبوت کے طور پر پیش کی گئی ہے وہ ملزم کی ملکیت نہیں ہے اور نہ اس پر کوئی عبارت اس کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہے بلکہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں اور وہ الفاظ بھی درود ابراہیمی کا حصہ ہیں۔
وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ پولیس نے اپنے چالان میں توہین مذہب کی دفعہ دو سو پچانوے کے تحت الزام ثابت کیا ہے جبکہ دو سو پچانوے سی کے تحت الزام ثابت نہیں کیا۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ دو سو پچانوے اے کا تعلق توہینِ مذہب سے ہے جس کی سزا دس سال قید ہے اور جرمانہ ہے۔ دو سو پچانوے سی کا تعلق پیغمبرِ اسلام کی توہین سے ہے جس کی سزا موت ہے۔ تاہم عدالت کے جج خالد بشیر نے ملزم کو دونوں دفعات کے ساتھ ساتھ توہینِ قران سے متعلق دفعہ دو سو پچانوے بی کے تحت بھی عمر قید اور جرمانہ کی سزا بھی سنائی ہے۔ وکیل صفائی نے عدالت سے کہا تھا کہ یہ مقدمہ وفاقی یا صوبائی حکومت کی شکایت پر ہی درج کیا جاسکتا ہے جبکہ اس مقدمہ میں ایسا نہیں ہوا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان الزامات کے تحت کسی مقدمہ کی تفتیش قانون کے مطابق سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سطح کا افسر ہی کرسکتا ہے جبکہ اس مقدمہ کی تفتیش ایک سب انسپکٹر نے کی۔ تفتیس کرنے والے سب انسپکٹر محمد منشا نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے تفتیش ایک سچے مسلمان کے طور پر کی ہے۔ وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ اس مقدمہ کے دروان میں انہیں مسلسل دھمکیاں دی جاتی رہیں کہ وہ یہ مقدمہ نہ لڑیں۔ |
اسی بارے میں توہین رسالت کا ملزم، تدفین متنازعہ05 December, 2004 | پاکستان توہین رسالت کے ملزم کی سزا برقرار16 September, 2004 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم مر گیا29 May, 2004 | پاکستان توہین رسالت کا الزام، گرفتاری14 March, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا ملزم قتل16 June, 2006 | پاکستان توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ03 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||