BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 18:51 GMT 23:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گستاخی کا الزام، بلا تحقیق برطرفی‘

آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی
آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کا ایک کیمپس
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی یونیورسٹی نے اپنے ایک افسر کو پیغمر اسلام کی شان میں مبینہ گستاخی کے الزام میں کسی تحقیق کے بغیر برطرف کر دیا ہے۔

مذکورہ افسر نے الزامات کی تردید کرتے ہیں اور یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے یہ اقدام طلبہ کے احتجاج کے بعد کیا ہے۔

برطرف افسر کرنل عبداللہ نے راولپنڈی سے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کٹر مسلمان ہیں، پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور یہ کہ ان کے دل میں پیغمر اسلام کے لیے اتنی ہی عقیدت ہے جو کسی بھی مسلمان کے دل میں ہوتی ہے۔

یونیورسٹی کے بعض طلبہ نے طلبہ امور کے ڈپٹی ڈائریکڑ ریٹائرڈ کرنل عبداللہ پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے جمعرات کو ان کی موجودگی میں ایسے الفاظ کہے جن سے پیغمر اسلام کی شان میں گستاخی کا پہلو نکلتا ہے۔

یونیورسٹی کے طلبہ نے اس افسر کے خلاف جمعہ کو احتجاج بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ ڈپٹی ڈائریکڑ کو ملازمت سے برطرف کر کے گرفتار کیا جائے۔

’تحقیقات نہیں کرنا چاہتے تھے‘
 انہوں نے ایسا کیا ہے یا نہیں لیکن ہم نے انہیں ملازمت سے فارغ کرنا ہی مناسب سمجھا اور ہم اس بارے تحقیقات نہیں کرنا چاہتے تھے

طلبہ کے احتجاج کے بعد یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلبہ کے امور کے ڈپٹی ڈائریکڑ ریٹائرڈ کرنل عبداللہ کو ملازمت سے نکال دیا۔ وہ کنڑیکٹ پر ملازمت کر رہے تھے۔

جامعہ کشمیر میں طلبہ امور کے ڈائریکڑ سردار محمد رستم نے کہا کہ گو کہ ہمیں چھ طلبہ کے علاوہ کسی اور سے یہ گواہی نہیں ملی کہ کرنل عبداللہ نے حضرت محمد کے شان میں گستاخی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا کیا ہے یا نہیں لیکن ہم نے انہیں ملازمت سے فارغ کرنا ہی مناسب سمجھا اور ہم اس بارے تحقیقات نہیں کرنا چاہتے تھے۔

یونیوسٹی کے طلبہ انتظامیہ کی کارروائی پر خوش ہیں لیکن ان کا اب یہ مطالبہ ہے کہ برخواست افسر عبداللہ کوگرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ ‌انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو گرفتاری کے لیے آج شام تک کا وقت دیا ہے بصورت دیگر وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

طلبہ نے مظفرآباد شہر کے پولیس سٹیشن کو بھی ایک درخواست دی ہے لیکن پولیس نے ابھی باقاعدہ رپورٹ درج نہیں کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے قانونی ماہر سے رجوع کیا ہے اور ان کی رائے آنے کے بعد ہی وہ کوئی کارروائی کریں گے۔

اسی بارے میں
توہین رسالت کا ایک اور مقدمہ
03 February, 2007 | پاکستان
توہین عقائد کا مقدمہ
03 May, 2005 | پاکستان
توہین رسالت کی سزا کالعدم
13 November, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد