ہنگاموں کی کوریج، ’آج‘ پر فائرنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں چیف جسٹس کے خطاب اور ایم کیو ایم کی ریلی کے موقع پر ہونے والے پرتشدد واقعات کے دوران گرومندر کے علاقے میں واقع نجی ٹی وی چینل’آج‘ کے دفتر کو بھی شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مسلح افراد کی فائرنگ سے چینل کی عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور چھت پر موجود کیمرہ مینوں اور رپورٹروں کو جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر پناہ لینی پڑی جبکہ چینل کا عملہ کئی گھٹنے تک عمارت میں محصور رہا۔ دریں اثناء شام سات بجے کے قریب پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچی ہے جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا۔ کراچی کے گرومندر کے علاقے میں واقع آج ٹی وی کے دفتر کے باہر دو مسلح گروہ کئی گھنٹوں تک ایک دوسرے پر مورچہ بند ہوکر جدید اسلحے سے فائرنگ کرتے رہے۔ متحارب گروہوں میں ایک گروہ آج ٹی وی کے دفتر کے قریب مورچہ بند تھا جبکہ دوسرے گروہ نے اس مقام سے کچھ فاصلے پر پٹیل پاڑہ کے علاقے میں محاذ بنایا ہوا تھا۔ مسلح افراد نے ٹی وی چینل کے دفتر پر اس وقت اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جب ٹی وی چینل پر اس کے دفتر کے اطراف مورچہ بند مسلح افراد کو کھلے عام اسلحہ اٹھائے فائرنگ کرتے اور موبائل فون پر بات کرتے دکھایا جارہا تھا۔ بعد ازاں مسلح افراد عمارت کے پارکنگ ایریا میں داخل ہوگئے اور وہاں کھڑی متعدد موٹر سائیکلیں اور کاریں نذر آتش کر دیں۔ اس وقت آج ٹی وی پر یہ خبر نشر کی جارہی تھی کہ ٹی وی کے دفتر پر فائرنگ کی گئی ہے جبکہ اس کا عملہ کئی گھنٹوں سے محصور اور غیر محفوظ ہے اور حکومت سندھ کی جانب سے سکیورٹی کا منتظر ہے۔ عمارت کے اندر موجود’آج‘ ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز طلعت حسین نے بی بی یس کو بتایا کہ’جدید ترین اسلحہ استعمال کیا گیا، ہماری عمارت کو چاروں طرف سےگولیوں کا نشانہ بنایا گیا، ہمارے کیمرہ مینوں پر فائرنگ کی گئی اور نیوز روم پر بھی فائرنگ کی گئی اور ہم کئی گھنٹوں سے اپنی جان بچانے کے لیے فرش پر بیٹھے رہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے باہر پارکنگ میں جتنی گاڑیاں کھڑی تھیں ان کو آگ لگادی ہے اور فائرنگ کا سلسلہ گزشتہ تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے جاری رہا۔ طلعت حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاقی اور صوبائی وزرائے داخلہ، رینجرز، ڈی جی آئی ایس پی آر اور کور کمانڈر تمام لوگوں سے رابطہ کیا لیکن انہیں کوئی سکیورٹی فراہم نہیں کی گئی اور کئی گھنٹوں تک ان کی عمارت حملہ کی زد میں رہی اور ساڑھے چار سو لوگ عمارت کے اندر محصور رہے۔ حملہ کے وقت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین آج ٹی وی کے دفتر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہی بندر روڈ پر اپوزیشن کے خلاف ریلی سے ٹیلیفونک خطاب کر رہے تھے اور ان کا یہ خطاب آج ٹی وی کے سوا بعض دوسرے نجی ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر کیا جا رہا تھا۔ حملے کے دوران مسلح افراد کو جب آج ٹی وی چینل پر براہ راست گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کرتے اور نذر آتش کرتے دکھایا جا رہا تھا تو پس منظر میں دو بار نیوز کاسٹر کی آواز سنائی دی کہ اب وہ مزید نہیں بول سکتیں۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی آج ٹی وی پر بھی الطاف حسین کی تقریر براہ راست نشر ہونا شروع ہوگئی۔ طلعت حسین کا کہنا ہے کہ ان کے ٹی وی کو جان بوجھ کر ہدف بنایا گیا اور اس میں ایک سیاسی جماعت کے لوگ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا’جب ہم کوریج کر رہے تھے تو باقاعدہ ہمارے کیمرہ مین پر فائرنگ کی گئی اور مسلح افراد کی حرکات کی براہ راست کوریج بند کرائی گئی۔ پھر ان کے پاس آپس میں کمیونیکیشن کا نظام بڑا مضبوط تھا جس کے ذریعے انہیں علم ہوا تھا کہ ان کی کوریج ہورہی ہے اور جب بھی ہم ان کی کوریج کرتے تھے تو شدید قسم کی فائرنگ ہوتی تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ’جس دیدہ دلیری سے فائرنگ کی گئی اس سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ کسی سیاسی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں باہر کے لوگ تو نہیں ہو سکتے‘۔ لاہور سے بی بی سی کے نمائندے علی سلمان کے مطابق ’ آج‘ ٹی وی کے کراچی آفس پر حملے کے خلاف مال روڈ پر صحافیوں نے ایک احتجاجی جلوس نکالا اور حکومت،صدر مشرف اور ایم کیو ایم کے خلاف نعرے بازی کی۔صحافیوں نے پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر دھرنا بھی دیا۔ اس موقع پر صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست بنا دی گئی ہے انہوں نے آج ٹی وی پر حملے کی مذمت کی اور کہا صحافی گولی سے ڈر کر سچ بتانا بند نہیں کریں گے۔ احتجاج میں پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف قاسم ضیا نے بھی شرکت کی اور دھرنا دیا۔ پریس کلب کے سامنے تحریک انصاف اور شباب ملی کے کارکنوں نے بھی ایم کیو ایم اور حکومت کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور’ قاتل، قاتل ایم کیو ایم قاتل‘،’گو مشرف گو‘،’ گولی لاٹھی کی سرکار نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے لگائے۔ | اسی بارے میں کراچی میں ہنگامے، تیس ہلاک12 May, 2007 | پاکستان تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے: اعتزاز12 May, 2007 | پاکستان کراچی: جسٹس افتخار اسلام آباد روانہ، 30 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان ہمارے رپورٹرز سے: لمحہ بہ لمحہ12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||