چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی ائیر پورٹ پر سارا دن’محصور‘ رہنے کے بعد واپس اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جبکہ کراچی میں سنیچر کو تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم چونتیس افراد ہلاک اور ایک سو چالیس کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چودھری سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرنے کے لیے کراچی آئے تھے لیکن انہیں ایئرپورٹ سے باہر ہی نہیں جانے دیا گیا۔ بی بی سی اردو کے مسعود عالم کے مطابق جب حکومتِ سندھ نے ان کے وکلاء کو صوبہ بدر کرنے کے احکامات جاری کیے تو جسٹس افتخار نے بھی ان کے ہمراہ واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ کراچی میں خون کی ہولی ادھر شہر بھر ہونے والے ہنگاموں میں اطلاعات کے مطابق کم از کم چونتیس افراد ہلاک جبکہ ایک سو چالیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جناح ہسپتال میں سترہ، لیاقت ہسپتال میں چھ ، عباسی شہید ہسپتال میں پانچ، سٹیل ٹاؤن میں دو اور سول ہسپتال میں چار لاشیں پہنچائی گئی ہیں اور ہلاک ہونے والوں کی اکثریت ایئر پورٹ کی طرف جانے والی شاہراہ فیصل پر ہونے والی فائرنگ کا شکار ہوئی۔ شہر میں ہنگاموں کے دوران تین درجن کے قریب گاڑیوں کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔ کراچی ایئرپورٹ کے نزدیک ڈرگ روڈ کے علاقے میں ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ آدھے گھنٹے تک جاری رہا اور اس واقعے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ سندھ ہائی کورٹ کی طرف جانے والے تمام راستوں پر کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر کے انہیں آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔صبح نو بجے کے قریب متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن ہاتھوں میں جھنڈے لے کر ہائی کورٹ کے باہر پہنچ گئے اور نعرے لگائے۔ یہ کارکن جن گاڑیوں میں آئے تھے وہ سینکڑوں کی تعداد میں ایم پی اے ہاسٹل روڈ پر کھڑی کر دی گئیں جس کے بعد ہائی کورٹ تک کسی گاڑی کی رسائی ناممکن ہوگئی۔ کراچی کے وکلاء بھی تمام تر کوششوں کے باوجود چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ نہ جا سکے اور نہ ہی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سندھ ہائی کورٹ بار کو خطاب کرنے کے لیے پہنچ سکے، جسے کے بعد وکلاء مایوس ہوکر واپس لوٹنا شروع ہوگئے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرار حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مرتبہ تو چیف جسٹس بار سے خطاب نہ کر سکے لیکن وہ دوبارہ پھر انہیں بلائیں گے تاہم اس کے لیے ابھی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ انہوں نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے پروگرام کو ناحق سیاسی رنگ دے دیا گیا۔ ’یہ صرف اور صرف وکلاء کا پروگرام تھا، سیاسی جماعتوں کا پروگرام نہیں تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ اس سارے قتل و خون کی ذمہ دار وہ سیاسی جماعتیں اور طاقتیں ہیں جو ایک دوسرے پر رعب ڈالنے کے لیے سڑکوں پر اس قسم کے مظاہرے کرتی ہیں۔ ’ہم وکلاء تو اپنے بار روم کے کمپاؤنڈ سے باہر تک نہیں نکلے۔‘ وکلاء کو صوبہ بدری کا حکم ادھر سندھ حکومت نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ کراچی جانے والے دس وکلاء کوصوبہ سے نکل جانے کے احکامات بھی جاری کیے۔ اس سے قبل جسٹس افتخار کے وکیل اعتزاز احسن نے پاکستان کے نجی ٹی وی’آج‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک ان لوگوں کو جو چیف جسٹس آف پاکستان کا استقبال کرنا چاہتے ہیں ایئرپورٹ آنے نہیں دیا جاتا وہ ایئرپورٹ سے باہر نہیں آئیں گے، چاہے انہیں چار دن تک ایئرپورٹ پر رکنا پڑے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جسٹس افتخار کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے الزام لگایا کہ کراچی ایئر پورٹ پر چیف جسٹس کو اغواء کر کے سندھ کے گورنر ہاؤس لے جانے کو کوشش کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہونے والے تشدد کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ایم کیو ایم پر عائد ہوتی ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے وزیر اطلاعات اور حکومت کے ترجمان محمد علی درانی نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کراچی میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور اس کا ذمہ دار شر پسند عناصر کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’میں سمجھتا ہوں کہ کراچی میں جو کچھ ہوا وہ بہت افسوسناک ہے جس میں بہت سی معصوم جانوں کا زیاں بھی ہوا اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا۔‘ انہوں نے کہا کہ شہر میں ہنگامہ آرائی چیف جسٹس کے کراچی آنے کے بعد شروع ہوئی۔ ’حقیقت تو یہ ہے اس دن بارہ بجے تک شہر کے اندر ایک معمول کا ماحول تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ توقع یہی تھی کہ تمام سیاسی جماعتوں کا رویہ برداشت کا ہو گا لیکن جو شکل کراچی میں بنی وہ یقیناً افسوسناک تھی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جو لوگ ان واقعات کے ذمہ دار ہیں ان کو بے نقاب کیا جائے اور سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب کی تحریک رفتہ رفتہ سیاسی رنگ زیادہ لے رہی ہے اور سیاسی جماعتیں عدلیہ کی مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی ہیں۔
کراچی میں آمد اس سے قبل جسٹس افتخار جب اسلام آباد سے کراچی آنے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے تین سو ایک کے باقی مسافروں کے ساتھ لاؤنج میں پہنچے تو حکام انہیں ٹرمینل نمبر دو کی طرف لے گئے، جہاں رینجرز کے کچھ باوردی افسر بھی موجود تھے۔جسٹس افتخار کے قریبی ذرائع کے مطابق ’حکومت نے چیف جسٹس صاحب پر دباؤ ڈالا کہ وہ سندھ ہائی کورٹ سڑک کی بجائے ہیلی کاپٹر کے ذریعے جائیں‘۔ ایئر پورٹ کو جانے والے تمام راستے بند ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس کے پروٹوکول کے لیے بھیجی گئی سرکاری گاڑی بھی ان تک پہنچنے میں ناکام رہیں۔ سنیچر کو کراچی شہر ویرانی کی تصویر بنا رہا۔ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ اور عوام غائب رہے۔ دکانداروں اور ٹرانسپورٹروں نے کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا تھا جبکہ تعلیمی ادارے بھی بند تھے۔ ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ فیصل کو دونوں طرف سے بند کیا گیا تھا اور ایئرپورٹ سے کسی کو بھی باہر آنے اور اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے بیرون ملک سے آنے والے کئی مسافروں کو رات ایئرپورٹ پر گزارنی پڑی۔ |
اسی بارے میں لاہور بار: سات وکلا کی رکنیت ختم11 May, 2007 | پاکستان ریلی پر ریلی، دیکھیں کیا ہوتا ہے12 May, 2007 | پاکستان کراچی: کشیدگی، ہلاکتیں، گرفتاریاں11 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||