BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟

جسٹس افتخار
جسٹس افتخار سے اظہار یکجہتی کے لیے وکلاء کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے
حکومت کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کو عملی طور پر معطل کیے ہوئے دو ماہ ہونے کو ہیں۔ جسٹس افتخار کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت سپریم جوڈیشل کونسل نے شروع کر رکھی ہے جبکہ انہوں نے حکومتی اقدامات کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔

اس قانونی رسہ کشی کے علاوہ وکلاء اور سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد جسٹس افتخار سے اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی ’معطلی‘ سے لیکر اب تک کہ اہم واقعات کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

نو مارچ:
صدر مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف ریفرنس دائر کیا۔ریفرنس میں الزام لگایا گیا کہ چیف جسٹس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ ریفرنس دائر ہونے کے ساتھ ہی چیف جسٹس کو گھر میں بند کر دیا گیا۔

چیف جسٹس کے گھر کی طرف جانے والے تمام راستوں پر پولیس تعینات کر دی گئی۔
اسی روز ہی سپریم جوڈیشل کونسل کا پہلا اجلاس سپریم کورٹ میں ہوا جس کی سربراہی اس وقت کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کی۔ کونسل نے بند کمرے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کو کام کرنے سے روک دیا اور ریفرنس کی اگلی سماعت تیرہ مارچ کو کرنے کا فیصلہ کیا۔

دس مارچ:

حکومت نے چیف جسٹس کے زیر استعمال گاڑیاں لفٹر کے ذریعے اٹھا لیں۔ ملک بھر میں وکلاء نے چیف جسٹس کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے خلاف تین روز مکمل ہڑتال کی اور پورے ملک میں سراپا احتجاج بنے رہے۔

تیرہ مارچ:

چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے سامنے پیشی پر پولیس کی طرف سے مہیا کی جانے والی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور اصرار کیا کہ وہ پیدل سپریم کورٹ جائیں گے۔ انتظامیہ اور پولیس کے اہلکاروں نے چیف جسٹس کو زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کی اور اس دوران چیف جسٹس سے بدسلوکی کا واقعہ پیش آیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر ملک بھی جسٹس افتخار کے وکلاء میں شامل ہیں

جسٹس افتخار سپریم جوڈیشل کے سامنے پیش ہوئے اور کونسل کے پانچ میں سے تین اراکان پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال سپریم جوڈیشل کی سربراہی کے اہل نہیں ہیں جبکہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری کے خلاف شکایات کا سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے ہی اندراج ہو چکا ہے۔ لہذا انہیں ان سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔ مقدمے کی سماعت سولہ مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔

سولہ مارچ:

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا کہ ان کو اور ان کے اہل خانہ کو گھر میں مقید کر دیا گیا ہے ۔ کونسل نےحکم جاری کیا ہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے اہل خانہ کی نقل و حرکت پر تمام پابندیاں ختم کی جائیں اور وہ جس شخص سے ملنا چاہیں مل سکتے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے ذرائع ابلاغ کو بھی خبردار کیا کہ وہ جسٹس افتخار کے معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

سترہ مارچ:

صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد کو ’جبری چھٹی‘ پر بھیج دیا۔ چیف جسٹس کو جبری چھٹی پر بھیجنے کا فیصلہ انیس سو اکہتر میں بنائے جانے والے ایک قانون کے تحت کیا گیا۔

اکیس مارچ:

حکومت نے ملک بھر میں وکلاء اور دوسرے طبقوں کی طرف سے شدید احتجاج اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کرنے کے اعلان کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ایک ’انتظامی‘ حکم کے ذریعے دس روز تک ملتوی کر دیا گیا۔

چوبیس مارچ:

سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس چھٹیاں گزارنے کے بعد واپس آگئے اور قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لے لیا۔

اٹھائیس مارچ:

جسٹس افتخار نے اپنی نقل و حرکت پر پابندیوں کو اٹھائے جانے کے بعد سب سے پہلے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوی ایشن راولپنڈی بینچ سے خطاب کیا۔ جسٹس افتخار نے کہا کہ ظلم پر مبنی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔

تیس مارچ:

جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف الزامات کی سماعت کے لیے بنائی جانے والی سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا اور تین مختلف وکلاء نے اپنے طور پر دائر کی جانے والی پیٹشنوں میں مؤقف

صدر مشرف نے جسٹس افتخار سے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف لیا تھا
اختیار کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو چیف جسٹس کے خلاف کارروائی کا حق حاصل نہیں ہے۔

تین اپریل:

جسٹس رانا بھگوان داس کے قائم مقام چیف جسٹس بننے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی از سر نو تشکیل کی گئی جس کے بعد ان کی سربراہی میں کونسل کا پہلا اجلاس ہوا۔ اس سماعت میں جسٹس افتخار کے خلاف کارروائی بند کمرے یا کھلی عدالت کرنے کے سوال پر بحث ہوئی اور کونسل نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

تیرہ اپریل:

سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا کہ کونسل کی کارروائی کو بند کمرے میں یا کھلی عدالت میں کرنے سمیت دوسرے اعتراضات پر وکلاء کے دلائل سننے کے بعد تمام ابتدائی نکات کا فیصلہ ایک ہی دفعہ کیا جائے گا۔

اٹھارہ اپریل:

صدارتی ریفرنس کی سماعت کے بعد جسٹس افتخار کے وکلاء نے بتایا کہ انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو سماعت کے دوران کہا ہے کہ ان کے مؤکل نے کونسل کی تشکیل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اس لیے اگر مناسب سمجھا جائے تو صدارتی ریفرنس کے حوالے سے کونسل کی مزید کارروائی روک دی جائے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے سماعت چوبیس اپریل تک ملتوی کر دی۔

حسب روایت ملک بھر میں وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور جلوس نکالے۔

چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل، اپنی جبری رخصت اور صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ چیف جسٹس نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی آئینی درخواست کا فیصلہ ہونے تک جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کو فریق اوّل بنایا۔

انیس اپریل:

چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت ہوئی۔ جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس اعجاز احمد چودھری اور جسٹس حامد علی مرزا پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔ بینچ کے سربراہ نے کہا کہ چیف جسٹس کی پٹیشن پر رجسٹرار نے اعتراض کیا ہے کہ معاملہ جوڈیشل کونسل میں ہے اس لیے

چیف جسٹس کے گھر کو جانے والی سڑک پر ناکہ بندی کر دی گئی تھی
عدالت میں نہ لایا جائے۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن کے دلائل سننے کے بعد بینچ نے صدر اور دیگر مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیے اور چوبیس اپریل کو جواب طلب کیا۔

اکیس اپریل:

چیف جسٹس نے پشاور کا دورہ کیا اور بار ایسوسی ایشن سے خطاب کیا۔ تقریب میں پشاور ہائی کورٹ کے پندرہ حاضر سروس ججوں نے شرکت کی۔ نجی ٹی وی چینلز نے چیف جسٹس کا خطاب براہ راست دکھایا۔

بائیس اپریل:

چیف جسٹس اور ان کے وکلاء کی تقاریر کی براہ راست کوریج پر نجی ٹی وی چینل آج کو پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے شو کاز نوٹس جاری کیا اور اس چینل کی نشریات بعض علاقوں میں کیبل آپریٹرز نے منقطع کردی۔

تئیس اپریل:

سید شریف الدین پیرزادہ نے چیف جسٹس کی آئینی درخواست میں صدر کا دفاع کرنے کا اعلان کیا اور قومی اسمبلی کے چالیسویں سیشن کے پہلے روز اجلاس میں حزب مخالف نے عدالتی بحران پر احتجاج کیا اور بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن سپیکر نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے بحث نہیں ہوسکتی۔

چوبیس اپریل:

چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سپریم کورٹ نے سماعت شروع کی اور بینچ کے سربراہ جسٹس رضا محمد خان نے کہا کہ وہ اس درخواست کی سماعت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس کو کام سے روکنے کا حکم جاری کرنے والی سپریم جوڈیشل کونسل کے حکم کے وہ دستخطی ہیں اور چیف جسٹس نے اس حکم کو چیلینج کیا لہٰذا وہ اپنے حکم کے خلاف مقدمے کی سماعت نہیں کرسکتے۔

چیف جسٹس کے وکلاء نے زور دیا کہ وہ سماعت کریں کیونکہ وہ ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ لیکن جسٹس رضا نے قائم مقام چیف جسٹس کو نیا اور بڑا بینچ بنانے کی سفارش کی۔ چیف جسٹس کے وکلاء نے فل کورٹ بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ لیکن جسٹس رضا خان نے کہا کہ یہ قائم مقام چیف جسٹس کا اختیار ہے۔

پچیس اپریل:

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے خلاف مبینہ بد سلوکی کرنے کے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے افسران سے کہا کہ وہ غیر مشروط طور پر معافی مانگیں یا مقدمہ لڑیں اور اس بارے میں واضح مؤقف کے ساتھ درخواست دیں۔

چھبیس اپریل:

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کا وفد نے، جو ایک ہفتے سے پاکستان میں عدالتی بحران کی تفصیلات جاننے آیا تھا، نیوز کانفرنس میں چیف جسٹس کو ہٹائے جانے کے طریقہ کار پر تنقید کی اور کہا کہ اس کے آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جبکہ چیف جسٹس نے عدالت کو درخواست دی کی جوڈیشل کونسل کی سماعت سے پہلے ان کی درخواست سنی جائے۔

ستائیس اپریل:

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت روکی جائے اور اس بارے میں عدالت حکم امتناعی جاری کرے۔

جسٹس افتخار پشاور، سکھر، راولپنڈی اور حیدرآباد میں وکلاء کے اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں

قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوانداس نے چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت کے لیے ان کی فل کورٹ قائم کرنے کی درخواست مسترد کردی اور جسٹس ایم جاوید بٹر کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دینے کا حکم جاری کیا۔ یہ بینچ سات مئی سے روزانہ سماعت کرے گا۔

دو مئی :

چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سپریم جوڈیشل کونسل میں سماعت ہوئی اور ان کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے اعتراضات کے بارے میں ابتدائی دلائل جاری رکھے۔

تین مئی :

سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں اعتزاز احسن نے اپنے دلائل مکمل کیے۔ جس کے بعد حکومتی وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے دلائل شروع کیے اور مزید سماعت نو مئی تک ملتوی کردی۔ نو اور دس مئی کو لگاتار سماعت ہوگی۔ جبکہ سات مئی کو چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سپریم کورٹ سماعت کرے گا۔

ادھر حکومت کے وکلاء نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت روکنے اور صدارتی ریفرنس کو چیلینج کرنے کے بارے میں چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کے لیے قائم پانچ رکنی بینچ کی بجائے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ بینچ تشکیل دیا جائے۔

چار مئی :

سپریم کورٹ نے فل کورٹ کے قیام کے بارے میں حکوت کی درخواست اعتراضات کے ساتھ واپس کردی۔

پانچ مئی :

حکومت نے سپریم کورٹ کے اعتراضات دور کر کے فل کورٹ قائم کرنے کی اپنی درخواست دوبارہ دائر کردی ہے۔ واضح رہے کہ جب چیف جسٹس کے وکلاء نے فل کورٹ بینچ قائم کرنے کی درخواست کی اور سپریم کورٹ نے وہ مسترد کرتے ہوئے پانچ رکنی بڑا بینچ تشکیل دیا تو بعض وزراء نے کہا کہ عدالت نے ٹھیک کیا ہے۔

بعد میں جب چیف جسٹس کے وکلاء نے پانچ رکنی بینچ پر اعتماد کا اظہار کیا تو حکومت نے اس پر عدم اعتماد کرتے ہوئے فل کورٹ بنانے کی درخواست دی ہے۔

قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
ملک گیر مظاہرے
وکلاء اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج
مزاحمت کی علامت
چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں نیا محاذ
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
’اے کلاس قیدی‘
’جسٹس افتخار کو قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے‘
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد