چیف جسٹس کے وکلاء ’صوبہ بدر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ کراچی جانے والے دس وکلاء کو صوبہ سے نکل جانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے چیف جسٹس افتخار کے وکیل اعتزاز احسن، حامد خان، علی احمد کرد، عاصمہ جہانگیر، چودھری زمرد خان، راجہ شفقت عباسی، محمد اکرام چودھری، اطہر منااللہ اور کچھ صحافیوں کے صوبہ بدری کے احکامات جاری کیے ہیں۔ صوبہ بدری کے احکامات ملنے کے باوجود اعتزاز احسن کے سوا تمام وکلاء کراچی ائیرپورٹ پر موجود ہیں۔ بیرسٹر اعتزاز احسن صوبہ بدری کے احکامات ملنے سے پہلے ہی اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ پاکستان بار کونسل کے ممبر راجہ شفقت عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں صوبہ بدری کے احکامات مل چکے ہیں لیکن وہ چیف جسٹس کے ساتھ ہیں اور انہیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ راجہ شفقت عباسی نے کہا کہ صوبہ بدری کے احکامات ملنے کے بعد انہوں نے ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان احکامات کو نہیں مانیں گےاور اگر حکومت نے زبردستی ان کو صوبہ سے نکالنا چاہا تو وہ مزاحمت کریں گے۔ انہوں نے کہا وہ ان کے ساتھی وکلاء سمجھتے ہیں کہ آئین ہر شہری کو نقل و حمل کی اجازت دیتا ہے اور وہ حکومت سندھ کے اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ | اسی بارے میں کراچی میں ہنگامے، تیس ہلاک12 May, 2007 | پاکستان ہنگاموں کی کوریج، ’آج‘ پر فائرنگ12 May, 2007 | پاکستان تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے: اعتزاز12 May, 2007 | پاکستان کراچی: جسٹس افتخار اسلام آباد روانہ، 30 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان ایمرجنسی افواہیں بے بنیاد: مشرف12 May, 2007 | پاکستان ہمارے رپورٹرز سے: لمحہ بہ لمحہ12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||