BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 May, 2007, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد کی ذمہ دار حکومت ہے: اعتزاز
اعتزاز احسن اور جسٹس افتخار
انتظامیہ اور پولیس نے چیف جسٹس کو اغوا کرنے کی کوشش کی:اعتزاز
چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہونے والے پرتشدد واقعات کی ذمہ دار ایم کیو ایم، وفاقی اور صوبائی حکومت ہے۔

کراچی ایئرپورٹ سے بی بی سی کے شفیع نقی جامعی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’عوام کچھ نہیں کر رہے بلکہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ وفاقی حکومت اور ایم کیو ایم کی صوبائی حکومت کر رہی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ریاستی دہشتگردی ہے اور حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا ’ ہم تو کراچی ائیر پورٹ پر جناح ٹرمینل کے لاؤنج میں محصور ہیں۔ جب ہم بارہ بجے اترے تو یہاں کی انتظامیہ اور پولیس نے چیف جسٹس کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور ہماری اطلاع کے مطابق حکام انہیں گورنر ہاؤس لے جانا چاہتے تھے‘۔

بیرسٹر اعتزاز کے مطابق اغواء کی اس کوشش میں پولیس رینجرز اور آئی جی سندھ خود ملوث تھے جنہوں نے چیف جسٹس سے کھینچا تانی کی لیکن وکلاء نے انہیں کامیاب نہ ہونے دیا۔

کراچی میں تشدد کے مختلف واقعات میں سولہ افراد ہلاک ہوئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ’اس وقت بھی لاؤنج کے باہر آئی جی اور ہوم سیکرٹری نیم فوجی دستوں کے ساتھ موجود ہیں اور ایئر پورٹ کے باہر ایم کیو ایم کی ریلی ہے جس میں شامل سینکڑوں لوگ مخالفانہ نعرے لگا رہے ہیں اور انہوں نے راستہ بھی بلاک کیا ہوا ہے‘۔

اس سوال پر کہ کیا چیف جسٹس کو اس طرح روک کر حکام سندھ ہائی کورٹ کی حکم عدولی تو نہیں کر رہے اعتزاز احسن نے کہا کہ اگرچہ انہیں چیف جسٹس کو سندھ ہائی کورٹ تک رسائی فراہم کرنے کے بارے میں عدالتی حکم کا نہیں پتہ لیکن اگر کوئی ایسا حکم دیا گیا ہے تو حکام اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

آئندہ کی حکمتِ عملی کے بارے میں سوال پر چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ
’اس حوالے سے مشورہ کیا جا رہا ہے اور ہمارے میزبان جس طرح ہماری رہنمائی کریں گے ہم وہی کریں گے‘۔

اعتزاز احسن نے ان خیالات کی نفی کی کہ چیف جسٹس اب سیاستدان بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے بالکل سیاست نہیں کی اور نہ ہی میڈیا سے بات کی ہے اور جسٹس افتخار نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے ان کا پیچھے ہٹنے کا سوال ہو اور جہاں تک بار ایسوسی ایشن سے خطاب کی بات ہے تو وہ چیف جسٹس کا حق ہی نہیں فرض بھی ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد