کراچی: کشیدگی، ہلاکتیں، گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد سے ایک روز قبل سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان کے پانچ سو سے زائد کارکن گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ نامعلوم افراد نے مسلم لیگ نواز کے ایک کارکن کو گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔ کراچی کے علاقے ماڈل کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص اصغر ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما سردار رحیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس واقعے کو ٹارگیٹ کلنگ قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کارکن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے استقبالی ریلی کے لیے سرگرم تھے جو بات مخالفین کو پسند نہیں آئی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں وہ ہی دہشت گرد ملوث ہیں جن کی جماعت کا کوئی نام نہیں لیتا۔ جبکہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی گذرگاہ پر دکان بند کروانے کی کوشش کے دوران فائرنگ میں بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔
کراچی میں قائد اعظم ایئرپورٹ کے قریب شاہراہ فیصل پر واقع فلک ناز ویو پلازہ میں فائرنگ میں ایک بائیس سالہ شخص امیر خان ہلاک ہوگیا۔ ایم ایف ٹی موبائل کی دکان کے مالک طیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مقتول ان کی دکان پر گارڈ تھا۔ طیب خان نے بتایا کہ دوپہر کو ساڑھے گیارہ بجے کے قریب چار پانچ لڑکے آئے اور کہا کہ دکان بند کرو، وہ پیچھے کی تمام دکان بھی بند کرواکے آئے تھے، گارڈ بھی دکان بند کرنے لگا تو اچانک زمین پر گرگیا اور اس کے جسم سے خون نکلنے لگا۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز نہیں آئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سائلینسر والے ہتھیار سے فائر کیا گیا تھا۔ طیب خان کا کہنا تھا کہ ان لڑکوں کی عمر پندرہ سے اٹھارہ سال ہوگی، ان کا رنگ سانولہ تھا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کاروبار بند ہوگیا ہے۔
فلک ناز پلازہ شاہراہ فیصل پر واقع ہے جہاں سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو گزرنا ہے۔ دوسری جانب چیف جسٹس کی آمد سے قبل ہی ایئرپورٹ جانے والی شاہراہ فیصل کے لنک روڈز کو سیل کیا گیا ہے اور ہائی کورٹ آنے والی سڑکوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد تاجروں نے کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ الائنس آف مارکیٹ ایسو سی ایشن کے چیئرمین عتیق میر نے بتایا کہ جس رویہ کا سیاسی جماعتیں اظہار کر رہی ہیں اس سے لگتا ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا اس لیے تاجروں نے کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ مخالف یہ الزام عائد کر رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے 500 سے زائد کارکن گرفتار کیے گئے ہیں اور ساری رات پولیس چھاپے مارتی رہی ہے۔ گرفتار کارکنوں کا تعلق جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے بتایا گیا ہے۔ جبکہ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شہر سے سیاسی جماعتوں کے ایک سو سے زائد کارکن گرفتار کیے گئے ہیں، جبکہ نقص امن کے الزام میں مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دفعہ ایک سو چوالیس کی خلاف ورزی کرنے پر سیاسی جماعتوں کے کیمپ ہٹائے گئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ریلیوں کے حفاظتی انتظامات کے لیے شہر میں موجود وسائل استعمال کیے جائیں گے اور رینجرز بیک اپ میں موجود ہوگی۔ ضرورت پڑنے پر پولیس اور رینجرز کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔ کراچی کی سڑکوں سے رات کو ہی پبلک ٹرانسپورٹ گم ہوگئی تھی، جس وجہ سے لوگوں کو سخت دشواری کا سامنا ہے۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ارشاد بخاری نے بی بی سی کو بتایا اس شہر میں کوئی حکومت نہیں ٹرانسپورٹروں سے متحدہ قومی موومنٹ نے گاڑیاں چھین لی ہیں اور انہیں دھمکیاں دی گئیں ہیں۔ دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے حکومت کو حکم کیا ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے۔ پاکستان انٹرنشینل ہیومن رائٹس نامی ایک تنظیم نے ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ چیف جسٹس کی سیکیوٹری فول پروف بنانے کا حکم جاری کیا جائے۔ جسٹس سرمد جلال اور جسٹس علی سائیں ڈنو میلتو پر مشتمل بینچ میں اس درخواست کی سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی رسک ہے اس لیے جسٹس افتخار محمد چودھری حکومت کے مشورے سے پروگرام ترتیب دیں۔ عدالت نے ان کے موقف کو رد کیا اور کہا کہ چیف جسٹس افتحار محمد چودھری کا پروگرام ان کی مرضی کے مطابق ہے، انہیں روٹ تبدیل کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاسکتا، حکومت ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ کے خلاف دوسرے روز بھی کراچی کی تمام عدالتوں کا وکلاء نے بائیکاٹ کیا ہے۔ اندرون سندھ سے وکلاء کی کراچی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، کچھ شہروں میں پولیس نے وکلاء کو روکا بھی ہے۔ شکارپور میں دس سے زائد وکلاء کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||