BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور بار: سات وکلا کی رکنیت ختم

بار سے سات وکلا کی رکنیت ختم کی گئی ہے
لاہور میں ضلعی بار ایسوسی ایشن نے وزیر مملکت کامل علی آغا سمیت سات سینئر وکلا کی بار کی رکنیت ختم کردی ہے۔ ان وکلا میں ضلعی بار ایسوسی ایشن کے تین سابق صدرو بھی شامل ہیں۔

یہ فیصلہ لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کیا گیا۔ ملک سلطان ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف پیروی کرنے اور حکومتی کنونشن میں شرکت کرنے والے وکلا کی بار کی رکنیت منسوخ کی جائے۔

جن وکلا کی رکنیت منسوخ کی گئی ہے ان میں حکمراں جماعت کے سینیٹر ڈاکٹر خالد رانجھا، جسٹس (ر) ملک محمد قیوم، جہانگیر اے جھوجھہ، محمد عالمگیر، راجہ عبدالرحمن، اسلم سندھو اور وفاقی حکومت کی وکیل اسلم زار شامل ہیں۔

عالمگیر حکمراں جماعت کے وکلا فورم پنجاب کے صدر اور ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب بھی ہیں۔

بار ایسوسی ایشن کی قرارداد
 ملک سلطان ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف پیروی کرنے اور حکومتی کنونشن میں شرکت کرنے والے وکلا کی بار کی رکنیت منسوخ کی جائے۔
ملک محمد قیوم، جہانگیر اے جھوجھہ اور محمد عالمگیر، لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر رہ چکے ہیں اور ان کے نام بھی صدور کے ناموں کی تختی سے بھی ہٹانے کا اعلان کیا گیا۔ لاہور بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری شمیم ملک نے بتایا کہ بار نے جن وکلا کی رکنیت ختم کی ہے ان کے بار میں داخلہ پر بھی عائد کردی گئی ہے۔

جسٹس (ر) ملک محمد قیوم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے لاہور میں ہونے والے حکومتی وکلا کنونشن میں شرکت کرنے پر جہانگیر اے جھوجھہ اور محمد عالمگیر کی سپریم کورٹ بار کی رکنیت منسوخ کی تھی لیکن لاہور ہائی کورٹ نے ان دونوں وکلا کی درخواست پر ایک عبوری حکم کے ذریعے ان کی رکنیت بحال کردی۔

اجلاس کے دوران ایک وکیل میاں تبسم نے حکومتی موقف کی حمایت کرنے پر تحریری معافی مانگ لی جس پر بار نے وکیل کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ میاں تبسم حکمران جماعت کی رکن پنجاب اسمبلی اور لاہور بار کی سابق نائب صدر مصباح کوکب کے بھائی ہیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر ملک قیوم کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے لاہور اور ملتان کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدور سید محمد شاہ اور اکرم بھٹی کے خلاف سپریم کورٹ کے روبرو توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔

توہین عدالت کی درخواست میں ملک قیوم نے کہا کہ انہیں چیف جسٹس پاکستان کے بارے میں سپریم کورٹ کے روبرو زیر سماعت درخواست میں وفاقی حکومت کی پیروی کرنے سے روکا جارہا ہے اور ان کی بار کی رکنیت ختم کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ملتان اور لاہور کے صدور ان کا استحقاق مجروح کررہے ہیں، دونوں صدور کو ہدایت کی جائے کہ وہ انصاف کی فراہمی کے عمل میں رکاوٹ نہ بنیں۔

ملک گیر مظاہرے
وکلاء اور سیاسی جماعتوں کا احتجاج
قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
’انتقامی‘ کارروائی
حکومت انتقامی کارروائی کررہی ہے: وکلاء
وکلاء کااحتجاج جاری
پیشی پر پولیس اور وکلاء کی ہاتھا پائی
جسٹس افتخارجسٹس کا قافلہ
جسٹس افتخار کا اسلام آباد تا لاہور سفر
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد