BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 07:02 GMT 12:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکیورٹی اہلکاروں، وکلاء کی ہاتھا پائی

سپریم کورٹ کی عمارت میں پولیس اور وکلاء کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی
سپریم جوڈیشل کونسل میں، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر جمعرات کو بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں وکلاء اور حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور ریلیاں نکالیں۔

جمعرات کی صبح جب جسٹ افتخار کے سپریم کورٹ کی عمارت میں پہنچنے پر پولیس اور وکلاء کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔

اسلام آباد میں پولیس کی بڑی جمعیت شاہراہ دستور پر صبح سے ہی موجود تھی اور سپریم کورٹ کو جانے والے مختلف راستوں میں سے کچھ پر خار دار تار لگا دی گئی تھی۔

بعض سڑکوں پر پولیس نےٹرک کھڑے کر کے انہیں عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھا۔راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والی مرکزی شاہراہ پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی جانے کی اطلاعات ہیں۔

گزشتہ روز بھی اسلام آباد کی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے وکلاء کو سپریم کورٹ کی عمارت تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کم و بیش ایسے ہی انتظامات کیے تے لیکن وکلاء کی خاصی بڑی تعداد ان رکاوٹوں کو عبور کر کے عدالتِ عظمیٰ کے باہر پہنچ گئی۔

 وکلاء رہنماؤں نے بتایا کہ بارہ مئی کو غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے موقعے پر ان کا بھرپور استقبال کیا جائے گا انہیں جلوس کے ساتھ بار کونسل لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد شاہراہ فیصل پر ائرپورٹ کے باہر سٹار گیٹ پر وکلاء سے خطاب کریں گے

بعض مقامات پر وکلاء اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

وکلاء کے علاوہ حزب مخالف کی کچھ جماعتوں کے رہنما اور کارکنان بھی گزشتہ روز کی طرح اسلام آباد میں جمع ہو رہے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور وکلاء صدر جنرل مشرف کے خلاف ٹولیوں کی صورت مظاہرہ کر رہے ہیں اور نعرہ بازی میں مصروف ہیں۔

بدھ کو اسی طرح کے ایک اجتماع پر پولیس نےلاٹھی چارج کیا تھا جس سے رکنِ قومی اسمبلی اسداللہ بھٹو زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس نے بدھ کو وکلاء تنظیموں کی طرف سے احتجاج کرنے والوں کو لنچ باکسز ارسال کیے۔ تاہم اسلام آباد کی انتظامیہ نے اس گاڑی کو آگے جانے سے روک لیا تھا جس میں وکلاء کا کھانا جا رہا تھا۔

البتہ دیر گئے یہ لنچ باکسز وکلاء کے حوالے کر دیے گئے لیکن وکلاء ان باکسز کو لیکر اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک اعلی افسر کے دفتر کے باہر احتجاج کے طور پر چھوڑ آئے۔

لاہور

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیشی کے موقع پر وکلا اور سیاسی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی تک پرامن جلوس نکالا ۔

وکیلوں کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔ اس موقع پر سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی جلوس میں شمولیت اختیار کی۔

وکلا نے ہائیکورٹ کے باہر مال روڈ پر دھرنا بھی دیا۔ وکلا نے حکمران جماعت کے سینیٹر خالد رانجھا کے دفتر کے سامنے زبردست نعرے بازی کی۔

مظاہرے سے قبل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس سے بار کے صدر احسن بھون د یگر وکلا رہنمائوں نے بھی خطاب کیا۔ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے مظاہروں کے اطلاعات ملی ہیں ہائی کورٹ سمیت مختلف ماتحت عدالتوں میں ہڑتال ہوئی، وکیل پیش نہیں ہوئے اور عدالتی کارروائی متاثر ہوئی جبکہ عدالتوں میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے گئے۔

کراچی، سندھ
کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا ہے کہ جمعرات کو بھی شہر میں وکلاء نے تمام عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور سٹی کورٹ سے نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالا۔

مظاہرین نے ایم اے جناح روڈ پر دہرنا دیا جس وجہ سے شہر کی اس اہم شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگیا

مظاہرین نے ایم اے جناح روڈ پر دہرنا دیا جس وجہ سے شہر کی اس اہم شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگیا۔

وکلاء سے کراچی بار کے صدر جاوید افتخار قاضی، نعیم قریشی، نہال ہاشمی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جدوجہد اب آزاد عدلیہ اور آزاد پارلیمان کی بحالی تک جاری رہے گی۔

احتجاج کے دوران کچھ وکلا نے صدارتی ریفرنس کی کاپیاں بھی نظر آتش کیں۔

وکلاء رہنماؤں نے بتایا کہ بارہ مئی کو غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے موقعے پر ان کا بھرپور استقبال کیا جائے گا انہیں جلوس کے ساتھ بار کونسل لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد شاہراہ فیصل پر ائرپورٹ کے باہر سٹار گیٹ پر وکلاء سے خطاب کریں گے، بعد میں وہ کراچی بار ایسو سی ایشن کے استقبالیہ اور ہائی کورٹ کے کنونشن میں شریک ہوں گے۔

وکلاء رہنماؤں نے بتایا کہ چیف جسٹس کے اس پروگرام کی کسی سیاسی جماعت کو دعوت نہیں دی جائے گی۔

دوسری جانب اندرون سندھ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، سانگھڑ، میرپورخاص، جیکب آباد اور نوابشاہ میں بھی وکلاء نے احتجاج کیا ہے۔

پشاور
پشاور سے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشاور ہائی کورٹ ڈیرہ اسمعیل خان سرکٹ بینچ کے ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل چوہدری محمد شریف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ حکومتی رویے کے خلاف احتجاجاًً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد شریف کو ایک دن پہلے ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔

اس بات کا اعلان انہوں نے جمعرات کے روز ڈیرہ اسمعیل خان میں وکلاء کے ایک احتجاجی ریلی میں کیا۔

داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
مزاحمت کی علامت
چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں نیا محاذ
احتجاجسیاسی میلے
وکلا کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں آئی
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری’اوپن ٹرائل کریں‘
معطل چیف جسٹس کا پہلا انٹرویو
عام آدمی کا جج
چیف جسٹس افتخار اور چھوٹے مسائل کا حل
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
اسی بارے میں
سماعت ملتوی، صدر کو نوٹس
19 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد