اگلی سماعت پانچ دن بعد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم جوڈیشل کونسل نے ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت نومئی تک ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل سے متعلق درخواستوں پر اپنے دلائل مکمل کر لیے اور اب حکومت کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے دلائل شروع کیے ہیں۔ ادھر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران سپریم کورٹ کے باہر وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور چلچلاتی دھوپ میں کئی گھنٹے تک ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے دوران صدر جنرل مشرف کے وکلاء کی اس درخواست کی مخالفت کی ہے جس میں قائم مقام چیف جسٹس سے کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لیے تمام ججوں پر مشتمل بینچ تشکیل دیا جائے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کےدوران جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کہا جب انہوں نے فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست کی تھی تو حکومت نے اس کی تحریری طور پر مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ چیف جسٹس کی صوابدید ہے کہ وہ جو چاہے بینچ تشکیل دے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کہا اب جب پانچ رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے تو اس میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔ جسٹس افتخار کے وکلاء نے کہا کہ جیسا کہ حکومت نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل سے متعلق درخواستوں میں اہم نکات اٹھا ئے گئے ہیں تو اس بناء پر سپریم جوڈیشل کی کارروائی دو ہفتوں کے لیے روک دی جائے۔ جسٹس افتخار کے وکلاء نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں فل کورٹ کے لیے صدر مشرف کی درخواست کی ہرگز حمایت نہیں کی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کی سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت ملتوی کرنے درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنے دلائل جاری رکھنے کے لیے کہا۔
سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے بعد جسٹس افتخار محمد کے وکیل قاضی محمد انور اور طارق محمود چودھری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایاکہ انہوں نے جسٹس افتخار کی طرف سے کونسل کی تشکیل اور دوسرے نکات سے متعلق اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں جبکہ حکومت کے وکلاء نے ابھی دلائل شروع کیے ہیں۔ حکومت کی طرف ڈاکٹر خالد رانجھا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران پر تعصب کا الزام لگانے والوں کے خلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد رانجھا نے اپنے دلائل کے حق میں آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ کسی جج پر تعصب کا الزام پر الزام لگانے والے کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر خالد رانجھا کے دلائل ابھی جاری تھے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نو مئی تک ملتوی کر دی گئی۔ سپریم جوڈیشل کونسل نو اور دس مئی کو جسٹس افتخار کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر، جسٹس افتخار حسین چودھری اور جسٹس صبیح الدین پر مشتمل ہے۔ |
اسی بارے میں ’درخواست صدر کی طرف سے نہیں‘03 May, 2007 | پاکستان گرفتاریاں، بائیکاٹ، مظاہرے،گرمی 02 May, 2007 | پاکستان سماعت روکنے کی درخواست مسترد02 May, 2007 | پاکستان ریفرنس پر سماعت دو مئی تک ملتوی24 April, 2007 | پاکستان سماعت: حکم امتناعی کی اپیل27 April, 2007 | پاکستان جسٹس پیٹیشن، اہم قانونی نکات 26 April, 2007 | پاکستان آئینی پٹیشن اور ریفرنس، تصادم کا خطرہ24 April, 2007 | پاکستان ’ایسا انوکھا واقعہ پہلے نہیں دیکھا‘26 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||