BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 May, 2007, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے

ہر اخبار نے کراچی تشدد کی تصاویر مکمل طور شائع کی ہیں
پاکستان کے تمام اخبارات پر کراچی میں رونما ہونے والے سنیچر کے واقعات مکمل طور پر چھائے ہوئے ہیں۔ کسی نے ’کراچی آگ اور خون میں نہا گیا‘ اور بعض نے ’کراچی میدان جنگ‘ جیسی شہہ شرخیاں جمائی ہیں۔

پشاور سے انگریزی کے اخبار دی سٹیٹسمین نے ’ Terror Reigns Supreme‘ یعنی دہشت کا دور دورہ جیسی سرخیوں سے کراچی کے واقعات پر اپنے احساسات کا اظہار کیا ہے۔

پشاور کے ہی ایک اور انگریزی اخبار دی فرنٹئیر پوسٹ نے تو اپنے صفحہ اول پر صرف ایک کراچی کی ہی خبر کو جگہ دی ہے۔ لاہور کے اخبار ڈیلی ٹائمز کی شہہ سرخی ہے ’کراچی بلیڈز، نیشن ویپس‘ یعنی کراچی میں خون بہنے پر قوم رو رہی ہے۔

ان شہہ سرخیوں سے محسوس ہوتا ہے کہ ان اخبارات نے اپنے اپنے طور پر کراچی کے واقعات پر اپنا غم و غصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات کی خبریں یا تو حکومتی دباؤ یا کسی اور وجہ سے دبی دبی شائع کی جاتی رہی ہیں لیکن اس مرتبہ ایسا دیکھنے کو نہیں ملا۔

جہاں تک بات ہے تصاویر کی تو تقریباً ہر اخبار نے کراچی تشدد کی تصاویر مکمل طور شائع کی ہیں۔ دی فرنٹئر پوسٹ نے تو صفحہ اول پر آٹھ دل ہلا دینے والی تصاویر اور صرف ایک خبر کو جگہ دی ہے۔

ایک تصویر جس میں ایک گاڑی کے قریب تین چار لاشیں سڑک پر پڑی ہیں وہ تو ہر اخبار نے شائع کی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی میں بیٹھے ہلاک و زخمی افراد کی تصاویر بھی شائع ہوئی ہیں۔ جبکہ اخبار کے اندر کے صفحات پر بھی یہ تصاویر دیکھی جاسکتی ہیں۔

میڈیا
’کراچی آگ اور خون میں نہا گیا‘

ڈیلی ٹائمز لاہور نے ایم کیو ایم کے ڈنڈے اور پستول سے مسلح سربراہ الطاف حسین کا ایک کارٹون بھی شائع کیا ہے۔

کئی اخبارات نے اس موضوع پر اداریے لکھے ہیں۔

نوائے وقت، راولپنڈی نے کراچی کے واقعات کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے پوچھا ہے کہ آخر حکومت کہاں ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اگر چیف جسٹس اور ان کے وکلاء کو خطاب کی اجازت دے دی جاتی تو شاید یہ حالات پیدا نہ ہوتے اور حکومت کی نیک نامی ہوتی۔

اخبار کے مطابق ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت چیف جسٹس کی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہے۔

نوائے وقت نے ان واقعات کی عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ادھر انگریزی اخبار دی نیوز نے اداریے ’کراچی یا بغداد‘ میں ان واقعات سے شہر پر آگے چل کر منفی اثرات مرتب ہونے کی پیشن گوئی کی ہے۔

ڈیلی ٹائمز کے اداریے کے مطابق اب فریقین نے ایسے موقف اختیار کر لیے ہیں کہ جن سے مصالحت کے امکانات مقدوش ہوگئے ہیں۔

صدر جنرل پرویز مشرف کی اسلام آباد میں ریلی کا پھر کچھ اخبارات میں ذکر ہے تاہم کراچی میں ایم کیو ایم کی ریلی کی کوریج شاید وہاں کے پرتشدد واقعات کی نظر ہوگئی ہے۔ ان ریلیز کو وہ کوریـج نہیں ملی جس کی توقع شاید ان کے منتظمین کر رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد