BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 May, 2007, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی پولیس پلان کس نے منظور کیا؟

ایم کیو ایم
ایم کیو ایم کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے بھی ہوئے
حالیہ برسوں میں متحدہ قومی موومنٹ یعنی ’ایم کیو ایم‘ ملکی سیاسی معاملات میں ہمیشہ ’فرنٹ فٹ‘ پر کھیلتے نظر آئی ہے لیکن بارہ مئی کو کراچی میں چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر ہونے والے ہنگاموں اور پرتشدد کارروائیوں کے بعد پہلی بار وہ کسی حد تک ’بیک فٹ‘ پر دکھائی دیتی ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں جس طرح حزب مخالف نے متحد ہوکر ان کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے انہیں ’قاتل‘ قرار دیا اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ایم کیو ایم تنہا ہوگئی ہے۔

حکمران مسلم لیگ کی طرف سے عدم تعاون کا احساس ایم کیو ایم کو شدید طور پر محسوس ہوا اور شام گئے صدر جنرل پرویز مشرف کے ہاں حکمراں اتحاد کی مشاورت میں یہ معاملہ بھی زیر بحث رہا۔

گزشتہ تین روز میں جہاں ایم کیو ایم کے سرکردہ رہنماء پختونوں کی ایک جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی سے ان کی جماعت کے دس کارکنوں کے قتل کے بعد صورتحال کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے دست بستہ گزارشات کر رہی ہے وہیں اسے آج ٹی وی چینل کے دفتر اور بعض صحافیوں پر حملوں کے بعد صحافتی تنظیموں سے معافی مانگنی پڑی ہے۔

پارلیمان کے اندر اور باہر ایم کیو ایم پر ایک طرف حزب مخالف متحد ہوکر تنقید کر رہی ہے تو دوسری طرف ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں صحافتی تنظیموں نے بھی اس جماعت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے انہیں یہ باور کرایا ہے کہ اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں یا مالکان کو ’غلام‘ نہیں بنایا جاسکتا۔

کراچی سکیورٹی پلان کی دستاویز کا عکس

بارہ مئی کو نجی ٹی وی چینل’ آج‘ کے کراچی میں واقع صدر دفتر پر ’نامعلوم، شدت پسندوں نے جس طرح کھلے عام اسلحہ اٹھا کر پانچ گھنٹوں تک وقفہ وقفہ سے فائرنگ جاری رکھی اور اس عرصے میں پولیس اور رینجرز قرب و جوار میں موجود ہونے اور آج ٹی وی کی انتظامیہ کی بارہا اپیلوں کے باوجود بھی نہیں پہنچے، اس سے کئی سوالات اٹھے۔

جب بارہ مئی کو کراچی کا سکیورٹی پلان منظرِ عام پر آیا تو یہ واضح ہوا کہ پولیس کو رائفل کے بجائے لاٹھی پکڑوانے کا حکم دیا گیا۔ ایک طرف کراچی پولیس کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بارہ مئی کے دورے کے لیے بنائے گئے سکیورٹی پلان میں یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ اس روز خودکش حملے، بم دھماکے اور سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات پر مسلح حملے ہو سکتے ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر یہ حکم بھی دیاگیا کہ ریلیوں میں حفاظتی فرائض پر مامور اور مختلف مقامات پر تعینات کی جانے والی پولیس پلاٹونوں میں شامل اہلکاروں کو کوئی ہتھیار نہ دیا جائے۔

یہ سکیورٹی پلان کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کی جانب سے ایس ایس پی سکیورٹی کراچی ڈاکٹر محمد امین یوسف زئی کے دستخط سے 11 مئی کو صوبائی دارالحکومت کے تمام ٹی پی او سے لے کر تھانیداروں تک تمام پولیس افسران کو جاری کیا گیا تھا۔

اس پلان میں ہدایت کی گئی تھی کہ تمام پولیس افسران 12 مئی کی صبح پانچ بجے اپنی اپنی ڈیوٹیاں سنبھال لیں اور انہیں صرف لاٹھیاں اور آنسو گیس پھینکنے والی رائفلیں دی جائیں۔ کیا یہ حکم جاری کرنے والے افسران سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اس کی وجہ کیا تھی اور انہوں نے یہ حکم کس کی منظوری یا ہدایت سے جاری کیا؟

’ہتھیار نہ دیے جائیں‘
 سکیورٹی پلان میں یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ اس روز خودکش حملے، بم دھماکے اور سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات پر مسلح حملے ہو سکتے ہیں تاہم حیرت انگیز طور پر یہ حکم بھی دیاگیا کہ ریلیوں میں حفاظتی فرائض پر مامور اور مختلف مقامات پر تعینات کی جانے والی پولیس پلاٹونوں میں شامل اہلکاروں کو کوئی ہتھیار نہ دیا جائے۔یہ سکیورٹی پلان کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی کی جانب سے ایس ایس پی سکیورٹی کراچی ڈاکٹر محمد امین یوسف زئی کے دستخط سے 11 مئی کو صوبائی دارالحکومت کے تمام ٹی پی او سے لے کر تھانیداروں تک تمام پولیس افسران کو جاری کیا گیا تھا۔

جب صوبائی وزارت کا قلمدان ایم کیو ایم کے پاس ہے اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں بارہ مئی کی پرتشدد کارروائیوں کا الزام بھی ایم کیو ایم پر عائد کریں اور آج ٹی وی چینل پر حملے کا ذمہ دار بھی صحافی ایم کیو ایم کو ٹھہرائیں اور مرنے والے بیشتر افراد کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے نہ ہو تو ایسے میں ایم کیو ایم کا اپنا کیس کمزور نظر آتا ہے۔

پہلے روز چونتیس کے قریب ہلاکتوں کے بعد ایم کیو ایم کا دعویٰ سامنے آیا کہ ان کے گیارہ کارکن مارے گئے ہیں۔ لیکن جب دوسرے روز تدفین ہوئی تو اخبارات میں صرف ان کے ایک کارکن کے جنازے کی خبر چھپی۔ ایم کیو ایم کی ویب سائٹ پر انہوں نے تین کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے تصاویر بھی دی ہیں۔

اگر ایم کیو ایم کے تین کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی مان لیں تو ان کا یہ الزام کہ حزب مخالف نے ان کے جلوس پر فائرنگ کی اور ان کے گیارہ کارکن مارے گئے ایک مضحکہ خیز بات لگتی ہے۔

اسلام آباد کے اکثر صحافیوں کا ماننا ہے کہ جس طرح کراچی میں’ آج‘ ٹی وی چینل نے بارہ مئی کو ایم کیو ایم کی ’نافرمانی‘ کر کے ان کے خوف کے غبارے سے ہوا نکالی ہے اس سے دیگر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور مالکان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

اخبارات میں ایم کیو ایم کے صرف ایک کارکن کے جنازے کی خبر چھپی

بعض مبصر کہتے ہیں کہ بدلتے حالات میں جب پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا جس طرح پھیلا ہے اس پر اب ماضی کی طرح میڈیا کو انگوٹھے تلے رکھنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

یہ بھی غالباً پہلا موقع ہے کہ جس طرح کراچی میں بارہ مئی کی ہلاکتوں پر برطانوی ذرائع ابلاغ میں الطاف حسین کی شہریت اور برطانیہ میں ان کے قیام پر سخت تنقید بھی ایک نیا پہلو ہے۔

کراچی میں تبت سینٹر کے سامنے بندر روڈ خاصی تنگ ہوجاتی ہے اور وہاں بارہ مئی کو ایم کیو ایم جیسی جماعت کی اپیل پر ان کے جلوس میں پہلے کی نسبت لوگوں کی کم تعداد میں شرکت اور عوامی نیشنل پارٹی سے فوری صلح کی کوششوں سے لگتا ہے کہ اب کراچی میں ایم کیو ایم کی ’بُلٹ اور بیلٹ‘ پر گرفت کمزور پڑتی نظر آتی ہے۔

دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
رینجرز ہڑتال اور احتجاج
کراچی تشدد کے خلاف ہڑتال، رینجرز کا گشت
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
کراچیکراچی تصویروں میں
احتجاج اور سوگ کے ساتھ تشدد کا دوسرا دن
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد