’لاڈلوں نے کراچی سے انتقام لیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے وکلاء نے حکومت کے اس الزام کو مسترد کردیا ہے کہ کراچی میں سنیچر کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے ذمہ دار چیف جسٹس اور ان کے حامی ہیں۔ انہوں نے تشدد کے واقعات کا ذمہ دار حکومت اور اس کی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے پیر کو ملک بھر کے وکلاء مکمل ہڑتال کریں گے اور چار گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے جبکہ اسلام آباد میں احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی۔ اتوار کو یہاں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میں چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے ساتھی وکلاء کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں پرتشدد واقعات پوری منصوبہ بندی کے تحت کئے گئے جس میں حکومت اور اس کی حلیف جماعت ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ کراچی کے لاڈلوں نے کراچی سے انتقام لیا ہے۔ اس میں کسی کی ذمہ داری نہیں ہے سوائے سندھ حکومت کے جس میں غالب عنصر متحدہ قومی موومنٹ کا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ایم کیو ایم کھل کر کہہ چکی تھی کہ ہم ان کی ضد میں ریلی کریں گے اور بارہ تاریخ کو ہی کریں گے‘۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متحدہ اس قتل و غارت میں حکومت کی آلہ کار اور ہتھیار بنی ہے۔ انہوں نے کہا ’ میں سمجھتا ہوں کہ الطاف حسین نے یہ بہت بڑی غلطی کی ہے جس کا اثر خود ان پر پڑے گا اور ان کی حمایت میں کمی آئے گی‘۔
جسٹس (ر) طارق محمود نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا کہ اگر چیف جسٹس استعفٰی دیکر فوج کے سیاسی کردار کے خلاف میدان میں نکلتے تو وہ ان کا ساتھ دیتے ۔ انہوں نے کہا ’الطاف حسین نے کہا کہ ہم ان کی ریلیاں اس لئے روک رہے ہیں کیونکہ وہ اینٹی مشرف ہیں اینٹی آرمی نہیں ہیں‘۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر کراچی گئے تھے اور وہ وکلاء کی خالصتاً ایک پیشہ ورانہ تقریب تھی جس میں انہیں شرکت نہیں کرنے دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو ائرپورٹ پر 8 گھنٹے محبوس رکھا گیا اور اغواء کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر چیف جسٹس کے ساتھ 13 مارچ کو بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہوتی تو دوبارہ ان کے ساتھ یہ واقعہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے واقعات کے بعد چیف جسٹس کے خلاف جنرل مشرف، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے جو بیانات دیے ہیں وہ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں اور اب یہ سپریم کورٹ کا امتحان ہے کہ وہ اس پر کیا کارروائی کرتی ہے۔ انہوں نے صدر مشرف کے اس الزام پر’ کہ چیف جسٹس کو کراچی جانے سے روکے جانے کے باوجود ان کے مشیر انہیں زبردستی وہاں لے گئے، کہا کہ چیف جسٹس کے کوئی سیاسی مشیر نہیں ہیں بلکہ وکالتی مشیر ہیں جن کے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں‘۔ جسٹس (ر) طارق محمود نے کراچی میں خونریزی کے واقعات کے باوجود اسلام آباد میں حکمران مسلم لیگ کے جلسے سے جنرل مشرف کے خطاب پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ’ کراچی میں تشدد کا بازار گرم تھا اور وہاں جشن منایاجا رہا تھا اور ڈھول بج رہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ اگرصدر مشرف کو واقعی دکھ ہوتا تو وہ فنکشن کو فوراً منسوخ کرتے اور قوم سے معافی مانگتے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس کو کراچی میں ہونے والی پرتشدد کارروائیاں اور چیف جسٹس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ منیر اے ملک نے کہا کہ وہ کراچی میں چیف جسٹس کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس 24 مئی کو سپریم کورٹ میں سپریم کورٹ بار سے خطاب کریں گے۔ اس موقع پر علی احمد کرد اور پاکستان بار کونسل کے وائس چئرمین مرزا عزیز بیگ نے بھی خطاب کیا جبکہ کراچی میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ | اسی بارے میں کراچی میں ہنگامے، چونتیس ہلاک12 May, 2007 | پاکستان کراچی کی ’جنگ‘ کس نے جیتی؟12 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کے وکلاء ’صوبہ بدر‘12 May, 2007 | پاکستان کراچی: کشیدگی، ہلاکتیں، گرفتاریاں11 May, 2007 | پاکستان متحدہ کےخلاف ملک گیرمظاہرے13 May, 2007 | پاکستان ’آزادعدلیہ چاہیےتو سیاست بند کرو‘12 May, 2007 | پاکستان کراچی: مزید ہلاکتیں، رینجرز تعینات13 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||