BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 May, 2007, 20:09 GMT 01:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہڑتال، احتجاج اور ہلاکتیں

مرنے والوں کے ورثاء پوسٹ مارٹم کرائے بغیر ہی لاشوں کو اپنے ساتھ لے گئے

کراچی کے علاقے لیاری میں فائرنگ میں تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جن کے ورثا کا الزام ہے کہ ان کی ہلاکت پولیس اور رینجرز کی فائرنگ سے ہوئی۔

یہ ہلاکتیں ایسے دن ہوئی ہیں جب اپوزیشن کی جماعتوں نے ملک بھر میں ہفتے کو کراچی میں ہوئی ہلاکتوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال بلائی ہوئی تھی جبکہ ملک گیر سطح پر وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔


لیاری کے علاقے پیرآباد، نیا آباد میں پیر کی صبح سے ہی ہنگامہ آرائی جاری تھی اور شام کو بھی لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ اس دوران تین افراد زخمی بھی ہوئے۔

رات کو نیا آباد کے علاقے میں فائرنگ سے تین افراد سہیل، سمیع مسیح اور فیضان ہلاک ہوگئے جن کے ورثا بغیر پوسٹ مارٹم کروائے لاش اپنے ساتھ لے گئے۔ ورثا کا الزام ہے کہ انہیں رینجرز اور پولیس نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا ہے۔

ٹاون پولیس افسر لیاری کا کہنا تھا کہ تینوں لیاری گینگ وار میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ رینجرز کے ترجمان کا بھی یہی موقف تھا۔

تاہم علاقے کے ایم پی اے رفیق انجنیئر کا کہنا کہ مقتولین پولیس اور رینجرز کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے ہیں پولیس کا الزام غلط ہے۔

دریں اثناء کراچی میں ہنگاموں میں اکتالیس افراد کی ہلاکت کے بعد اپوزیشن کی جانب سے پیر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں کاروبارِ زندگی معطل رہا۔

حکومتِ سندھ نے بھی صوبے میں تعطیل کا فیصلہ کر کے یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔

کراچی میں شہر میں تمام کاروبار معطل اور سڑکیں ویران تھیں جبکہ پشتون آبادی والے علاقوں میں بڑی تعداد میں رینجرز تعینات کیے گئے تھے۔

شہر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی موجودگی دکھانے کے رینجرز نے شہر میں فلیگ مارچ بھی کیا جس میں تیس کے قریب گاڑیوں اور 300 جوانوں نے حصہ لیا۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق شہر میں رینجرز کی 13 ہزار نفری تعینات کی گئی تھی جبکہ مزید تین ہزار نفری کراچی کے باہر سے طلب کی گئی جسے حساس مقامات پر تعینات کیا جانا تھا۔

لاہور کی ریلی میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی

شہر کے حساس علاقوں کے داخلی اور خارجی مقامات پر کنٹینر کھڑے کر کے راستے بند کر دیے گئے تاکہ ممکنہ کشیدگی کو روکا جا سکے۔ ادھر سہراب گوٹھ کے علاقے میں نوجوانوں نے ٹولیوں کی صورت میں نکل کر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جس کے بعد وہاں ٹریفک معطل ہوگیا۔

اندرون سندھ سے بھی مکمل ہڑتال رہی اور حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، دادو، نوابشاہ، میرپورخاص، عمرکوٹ سمیت بڑے چھوٹے شہر مکمل بند رہے اور کئی مقامات پر جلوس نکالے گئے۔

لاہور میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق صوبہ پنجاب کے بیشتر شہروں میں اپوزیشن جماعتوں کی اپیل پر ہڑتال کی گئی اور مختلف شہروں میں کراچی میں ہلاک ہونے والوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

اندرون لاہور اور دیگر بیشتر بڑی مارکیٹیں بند رہیں البتہ گلی محلوں اور شہر کے خوشحال علاقوں کی نوے فی صد دکانیں کھلی تھیں۔ جو مارکیٹیں دوپہر تک بند تھیں ان میں شاہ عالم، اکبری منڈی، لنڈابازار، انارکلی، برانڈرتھ روڈ، ہال روڈ، صرافہ بازار، بادامی باغ، نیلا گنبد اور بیڈن روڈ شامل ہیں۔

 کراچی میں رینجرز نے فلیگ مارچ کیا جس میں تیس کے قریب گاڑیوں اور 300 جوانوں نے حصہ لیا۔ رینجرز کے ترجمان کے مطابق شہر میں رینجرز کی 13 ہزار نفری تعینات کی گئی اور مزید تین ہزار نفری کراچی کے باہر سے طلب کی گئی جسے حساس مقامات پر تعینات کیاجانا تھا ۔لانڈھی، قائد آباد، قصبہ کالونی، بنارس اور سہراب گوٹھ کے علاقے کو حساس قرار دیتے ہوئے وہاں رینجرز کی پکٹس قائم کر دی گئی تھیں

گوجرانوالہ میں اسّی فیصد دکانیں بند رہیں اور جی ٹی روڈ پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ فیصل آباد میں آٹھ بازاروں سمیت بیشتر مارکیٹیں بند رہیں جبکہ چوک گھنٹہ گھر میں صدر مشرف کا پتلا جلایا گیا۔ ملتان میں پچاس فیصد دکانیں بند رہیں جبکہ ایم ڈی اے چوک میں صدر مشرف کا ایک بڑا سائن بورڈ نذر آتش کیا گیا۔ بہاولپور میں بھی اندرون بازار جزوی طور پر بند رہے جبکہ سرکلر روڈ کی دکانیں بند رہیں۔ بہاولنگر میں دکانداروں نے ہڑتال میں شرکت نہیں کی البتہ سیاسی جماعتوں نے جلوس نکالا اور غائبانہ نماز جنازہ ادا کی ۔

لاہور سے بی بی سی کے عباد الحق کے مطابق وکلاء نے ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور کسی بھی مقدمے کی سماعت نہیں ہو سکی۔ مال روڈ پر کراچی میں انسانی جانوں کے ضیاع پر ایک بڑا احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا جس میں وکلاء اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن بہت بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ ریلی کے شرکاء نے چیئرنگ کراس پر ہلاک شدگان کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ادا کی۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ خان کے مطابق کراچی میں پرتشدد واقعات کے حوالے سے متحدہ حزب اختلاف کی اپیل پر بلوچستان کے تمام اضلاع میں بھی کاروباری مراکز اور دکانیں بند رہے جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل کی اپیل پر صوبہ بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

احتجاج کے دوران ایم کیو ایم کے جھنڈے نذرِآتش کیے گئے

بلوچ بار ایسوسی ایشن کے صدر صادق رئیسانی نے کہا کہ کراچی میں پرتشدد واقعات کے خلاف ان کا احتجاج جاری رہے گا اور کوئٹہ میں وکلاء ضلع کچہری سے ریلی نکالیں گے اور احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔

پشاور سے بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق شہر کے اہم تجارتی مراکز صدر بازار، قصہ خوانی بازار، چوک یادگار، خیبر بازار اور اندرون شہر چھوٹے چھوٹے بازار مکمل طور پر بند رہے جبکہ یونیورسٹی روڈ جزوی طورپر بند رہا۔ پشاور کے وکلاء نے بھی عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا اور ہائی کورٹ سے قصہ خوانی بازار تک جلوس نکالا۔ جلوس کے شرکاء نے پشاور ہائیکورٹ سے چوک شہدا قصہ خوانی تک مارچ کیا جہاں انہوں نے سنیچر کے روز کراچی میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ بعد ازاں وکلاء نے سوئیکارنو چوک خیبر بازار پہنچ کر احتجاجی جلسہ منعقد کیا۔ متحدہ اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی وکلاء کے ساتھ ایک مشترکہ جلسہ منعقد کیا جس میں عوامی نیشنل پارٹی، ایم ایم اے، پاکستان پیپلزپارٹی پارلمینٹرینز، تحریک انصاف اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

مظاہرین نے اس موقع پر گو مشرف گو کے نعرے لگائے جبکہ صدر جنرل پرویز مشرف اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف نعرہ بازی کی اور حکومت سے فوری طورپر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔

’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
کراچیلمحہ بہ لمحہ
مختلف علاقے میں موجود ہمارے رپورٹرز سے
چیف جسٹس کا پوسٹرریلی پر ریلی
کراچی میں جوش اورخوف ساتھ ساتھ
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
’انتقامی‘ کارروائی
حکومت انتقامی کارروائی کررہی ہے: وکلاء
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد