BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 May, 2007, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں ہلاکتیں، اسمبلی میں ہنگامہ

قومی اسمبلی
کراچی میں بارہ مئی کو عام فائرنگ میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے
بارہ مئی کو چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقع پر حزب مخالف کے جلوسوں پر فائرنگ کے خلاف منگل کو متحدہ حزب مخالف نے قومی اسمبلی میں سخت احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگائے اور ہنگامہ کھڑا کردیا جس پر حکومت نے اجلاس کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی ہے۔

منگل کو ایوان کی نجی کارروائی کا دن ہوتا ہے لیکن حکومت نے ایجنڈے پر کراچی کی صورتحال کے بارے میں بحث کرنی تھی۔ جیسے ہی حکومتی رکن ظہیر عباس کھوکھر کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی اور پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے بولنا چاہا تو حزب مخالف کے اراکین نے ’قاتل قاتل، ایم کیو ایم قاتل‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ڈیسک بجانا شروع کردیے۔

ایوان میں سخت شور برپا ہوگیا اور اس دوران شیر افگن نیازی نے کہا کہ حکومت کراچی کی صورتحال پر بحث کے لیے تیار ہے۔ افسرِ صدارت بھی حزب مخالف کو روکتے رہے لیکن اپوزیشن نے احتجاج اور نعرہ بازی جاری رکھی۔ اس دوران ایم کیو ایم کے بعض اراکین نے بھی جوابی نعرے لگائے کہ ’قاتل قاتل ایم ایم اے قاتل اور قاتل قاتل اپوزیشن قاتل‘۔

حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ حزب مخالف ایوان کی کارروائی چلانے میں سنجیدہ نہیں اور ایسے میں ایوان میں بیٹھنا فضول ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایوان کی کارروائی ملتوی کردی جائے۔ ان کی تجویز پر افسرِ صدارت نے کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

اجلاس ملتوی کیے جانے کے بعد بھی اپوزیشن کے اراکین ایوان میں نعرہ بازی کرتے رہے۔ جب حکومتی اراکین کے ہمراہ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین ایوان سے باہر نکل گئے تو متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ نے نعرے لگوائے کہ ’بھاگ گئے بھاگ گئے دہشت گرد بھاگ گئے‘۔

بعد میں حزب مخالف کے اراکین نے نیوز کانفرنس میں الزام لگایا کہ بارہ مئی کو کراچی میں چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر حزب مخالف کے جلوسوں پر ایم کیو ایم نے فائرنگ کی جس میں چالیس بے گناہ افراد ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف اور حکومت پر نکتہ چینی کی اور انہیں بھی کراچی میں ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھرایا۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کا یہ چالیسواں سیشن تھا اور گزشتہ تین دہائیوں میں یہ پہلی اسمبلی ہے جو اپنی پانچ سالہ مدت کے آخری سال میں داخل ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی کے پانچویں برس کا یہ پہلا سیشن تھا جو سترہ مئی تک چلنا تھا۔ یہ سیشن تین ہفتے جاری رہا اور اس دوران کوئی قانون سازی نہیں ہوسکی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد