کراچی ہلاکتیں، ایوانوں کا بائیکاٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں کراچی کے پرتشدد واقعات پر پیر کو حزب اختلاف نے بھرپور احتجاج کیا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی نہیں چلنے دی۔ ایوان بالا یعنی سینٹ میں اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا جبکہ قومی اسمبلی میں اراکین کی حکومت اور ایم کیو ایم کی مخالفت میں نعرہ بازی کے بعد سپیکر کو اجلاس کل تک کے لیئے ملتوی کرنا پڑا۔ سینٹ کا اجلاس جب شروع ہوا تو متحدہ اپوزیشن کے ارکان بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ہال میں داخل ہوئے۔ ایوان میں قائدِ حزب اختلاف میاں رضا ربانی نے اجلاس کے آغاز میں ہی نقطہِ اعتراض پر کہا کہ کراچی میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی کارکنوں کو جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا استقبال کرنے کے لیے جمع ہو رہے تھے حکومت نے گولیوں کا نشانہ بنایا جبکہ صوبائی حکومت، پولیس اور رینجرز خاموش نماشائی بنے رہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ پیر کی ہڑتال نے ثابت کر دیا ہے کہ تمام ملک کے عوام حکومت کی اس دہشت گردی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ قائد حزب اختلاف نے جیسے ہی اپنا بیان ختم کیا، متحدہ اپوزیشن کے تمام ارکان سینیٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے خاموشی سے ہال سے باہر آ گئے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج قدرے مختلف نوعیت کا رہا۔ پارلیمانی امور کے وزیر شیر افگن نے ایوان کی کارروائی کے آغاز پر جب سپیکر سے تحریک پیش کرنے کی اجازت طلب کی تو اپوزیشن کے تمام موجود ارکان نے کھڑے ہو کر ’ظالموں جواب دو، خون کا حساب دو’ اور ’قاتلوں جواب دو، خون کا حساب دو‘ جیسے نعرے بلند کرنا شروع کر دیے۔ یہ نعرہ بازی سپیکر کے فرائض انجام دینے والے نثار کھوکھر کی جانب سے اجلاس کل تک برخاست کرنے تک جاری رہی۔ اس دوران حزب اختلاف کے ارکان کی نعرہ بازی کراچی میں ہلاک ہونے والوں اور سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کی اہلیہ کے لیئے فاتحہ کے وقت مختصر مدت کے لیے رکی۔ اس موقع پر موجود حکمراں جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے ایوان میں سنجیدہ گفتگو کی اپیل بھی حزب اختلاف نے مسترد کر دی۔ چوہدری شجاعت کا کہنا تھا کہ اپوزیشن آگ کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے اسے ہوا دینے کے موڈ میں ہے۔ بعد میں اپوزیشن ارکان اسمبلی ہال سے عمارت کےصدر دروازے تک ایم کیو ایم کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے باہر چلے آئے۔ اگرچہ حزب اختلاف کے اہم رہنماء کراچی کے واقعات پر ایوان سے باہر دن میں کئی اخباری کانفرنسیں اور احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے دکھائی دیتے رہے لیکن وہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔ ان میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان، جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد اور عمران خان شامل تھے۔ |
اسی بارے میں لاہور بار: سات وکلا کی رکنیت ختم11 May, 2007 | پاکستان لاہور: استقبال کے لیے سولہ جج آئے06 May, 2007 | پاکستان کراچی: خون سے اخبارات رنگے رہے13 May, 2007 | پاکستان متحدہ کےخلاف ملک گیرمظاہرے13 May, 2007 | پاکستان مزید ہلاکتیں، رینجرز تعینات13 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||