BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 May, 2007, 04:27 GMT 09:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: استقبال کے لیے سولہ جج آئے

سولہ ججوں کی آمد سے صدارتی ریفرنس پر ان کے عدم اعتماد کا اظہار ہوتا ہے
غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے لاہور ہائی کورٹ بار سے خطاب کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ کے سولہ جج ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود تھے۔

لاہور ہائی کورٹ بار سے خطاب کے لیے چیف جسٹس کی لاہور آمد پر تجزیہ نگاروں، مبصرین ، ذرائع ابلاغ اور وکلاء برادری کی نگاہیں ان کے استقبال کے لیے آنے والے ججوں کی تعداد پر لگی ہوئی تھیں۔

اس تقریب میں تقریباً بیس کے قریب اعلی عدلیہ سے تعلق رکھنے والے سابق جج اور لاہور ہائی کورٹ کے چار سابق چیف جسٹس صاحبان بھی شریک تھے۔

جسٹس افتخار چودھری سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے آنے والے ججوں میں، جسٹس خواجہ محمد شریف، جسٹس سید زاہد حسین، جسٹس میاں نجم الزماں، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس ثاقب نثار، جسٹس مولوی انوارالحق، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس محمد عطاء بندیال، جسٹس اعجاز احمد چودھری، جسٹس سعید اختر، جسٹس خالد علوی، جسٹس جاوید سرفراز، جسٹس میاں حامد فاروق، جسٹس ساحر علی، جسٹس ایم اے شاہد صدیقی اور جسٹس جہانگیر ارشد شامل تھے۔

ان کے علاوہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے جج جواد ایس خواجہ بھی خطاب سننے والوں میں بیٹھے تھے۔

یاد رہے کے لاہور ہائی کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن بھی ہیں اور ان پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس کی حیدرآباد بار اور پھر پشاور بار سے خطاب کے موقع پر بھی سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے جج صاحبان تشریف لائے تھے۔ حیدرآباد اور پشاور میں ججوں کی بار کی تقریبوں میں شرکت کے بعد تمام نظریں لاہور پر جمی ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد