مستعفی ہونے والے ججوں کا ردِعمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس جواد خواجہ نے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے نام لاہور ہائی کورٹ لیٹر پیڈ پر لکھے گئے ایک صفحہ کے استعفے میں کہا ہے کہ گزشتہ دس دنوں سے عدلیہ سے متعلق واقعات رونما ہورہے ہیں جن کی تفصیل میں وہ اس لیے نہیں جائیں گے کہ یہ سب کچھ عوام کے علم میں ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتہ میں ذاتی طور پر انہیں بطور جج اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا دشوار لگا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ خط لکھنے سے پہلے چند دن اس امید کے ساتھ انتظار کیا کہ عدلیہ کو پہنچائے گئے نقصان کی تلافی کے لیے کچھ کیا جائے گا لیکن ان کا یہ انتظار بے سود ثابت ہوا۔ جسٹس خواجہ نے لکھا ہے کہ بہت غور و خوض اور سوچ و بچار کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے پاس اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔ اس لیے وہ آئین کے آرٹیکل ایک سو پچانوے کے تحت اپنا استعفیٰ ان کو بھجوا رہے ہیں۔ کراچی شرقی کے سینئر سول جج اور اسٹنٹ سیشن جج مصطفیٰ صفوی نے کہا ہے کہ انہوں نے احتجاجًا استعفیٰ دیا ہے جب عدالت کو ہی آئینی اختیارات حاصل نہیں ہیں تو عام شہری کو کیا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے اگر ایسا رویہ رکھا جارہا ہے تو عام آدمی کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا، اس پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ مصطفیٰ صفوی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگر چیف جسٹس کو آئین کے تحت حاصل حقوق کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو ایک عام آدمی کی کیا حالت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم جب قانون اور آئین کی بات کرتے ہیں تو اس کا دفاع کرنا چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ قانون کے خلاف ہو رہا ہے‘۔ مصطفیٰ صفوی کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سے جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، وہ بلکل ٹھیک نہیں ہے جب جمہوریت اور آئین کی بات ہوتی ہے تو سب کو ایک جیسا تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل چار بھی یہ بات کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود تو وہاں موجود نہیں تھے مگر انہوں نے ٹی وی پر دیکھا کے چیف جسٹس سے کیسا رویہ اختیار کیا گیا، وکلاء پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آئینی ادارہ میدانِ جنگ بن گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے حکم نامے میں یہ لکھا تھا کہ چیف جسٹس کو غیر فعال بنایا گیا ہے، اب جب کوئی راستہ نہیں مل رہا تو انہوں نے انیس سو پچانوے کے قانون کے تحت کہا کہ جسٹس افتخار کو جبری رخصتی پر بھیج دیا گیا ہے۔ مصطفیٰ صفوی کا کہنا تھا کہ اگر وزیرِ قانون کل کو کہیں گے کہ انہوں نے پورے پاکستان کو جبری رخصتی پر بھیج دیا ہے تو یہ ماننے پر مجبور ہوجائیں گے کیونکہ وہ وزیرِ قانون ہیں۔ انہوں نے کہا: ’یہ درست ہے کہ میرے خاندان کی گزر بسر کا انحصار اسی ملازمت پر تھا مگر میں اس سے قبل وکالت کرتا تھا جو اب بھی جاری رکھوں گا‘۔
پنو عاقل کے سینئر سول جج راجیش چندر راجپوت نے ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر سے فون پر بات کرتے ہوئے اپنے مستعفی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری سے جس طر ح کا سلوک کیا جا رہا ہے، وہ اس پر احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہو رہے ہیں۔ سینئر سول جج راجیش چندر راجپوت پیر کی صبح پنو عاقل کی عدالت پہنچے۔ انہوں کوئی عدالتی کارروائی نہیں چلائی۔ کچھ دیر تک دفتری کام نمٹانے کے بعد وہ اپنا استعفٰی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سکھر کے دفتر میں جمع کرانے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کے تمام اسباب استعفیٰ میں لکھے گئے ہیں اور اب وہ ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے۔ |
اسی بارے میں ہڑتال، بائیکاٹ اور مظاہرے جاری18 March, 2007 | پاکستان کئی جج مستعفی، مظاہرے اور ہڑتالیں جاری19 March, 2007 | پاکستان ’پولیس عدالت کو مطمئن کرے‘19 March, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار پر پابندیاں برقرار17 March, 2007 | پاکستان بحران قابو سے باہر ہو سکتا ہے: بینظیر17 March, 2007 | پاکستان ’میرے خلاف سازش ہو رہی ہے‘17 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||